انسان کیسے یہ سوچ لیتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آخرت میں تو کریم ہے مگر دنیا میں نہیں اور کیسے کہہ دیتا ہے کہ مال کمانے میں سستی کرنا اس کے کرم کا تقاضا نہیں لیکن اُخروی سلطنت اور دائمی نعمتوں کے حصول کے لئے کیے جانے والے عمل میں سستی کرنا اس کے کرم کا تقاضا ہے اور یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آخرت میں اسے کسی محنت کے بغیر اپنے کرم سے نعمتیں عطا فرمائے گا جبکہ دنیا میں عام طور پر یہ دنیوی مال سخت محنت کے باوجود نہیں ملتا؟ کیا انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان بھول جاتا ہے: وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾ (پ۲۶،الذٰریٰت:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔
ہم (دل کے) اندھا ہونے اور بھٹکنے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں۔ ایسی سوچ سر کے بل کھڑا ہونے اور جہالت کے اندھیروں میں غوطہ لگانے سے پیدا ہوتی ہے اور اس قسم کا بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان کا مصداق بننے کے لائق ہے: وَلَوْ تَرٰۤی اِذِ الْمُجْرِمُوۡنَ نَاکِسُوۡا رُءُوۡسِہِمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْ ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا (پ۲۱،السجدة :۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کہیں تم دیکھو جب مجرم اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا اور سُنا ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں۔
یعنی ہم نے دیکھ لیا کہ تیرا فرمان” وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ (1)“ سچ ہے۔ ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم کوشش کریں۔ لیکن اس وقت ان کا پلٹنا ناممکن ہوگا اور ان کے لئے عذاب کا حکم ہوچکا ہوگا۔ جہالت اور شک میں مبتلا کرنے والے اُمور جو برے انجام کا باعث ہیں ہم ان سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں۔
تیسری فصل: توبہ کے بعد گناہ سرزد ہو تو کیا کیا جائے؟
جان لو! توبہ کے بعد جس شخص سے گناہ سرزد ہوجائے اس کے لئے ضروری ہے کہ توبہ کرے اور نادم ہو نیز اس گناہ کے کفارے میں اس کی مخالف نیکی کرنے میں مشغول ہوجائے جیساکہ ہم اس کا طریقہ ذکر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔(پ۲۷،النجم:۳۹)