عمل بھی ضروری ہے:
جو شخص اپنے گھر کو ویران اور مال ضائع کردے اور خود کو اور اہل وعیال کو بھوکا رکھے اور یہ گمان کرے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل کا منتظر ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے خزانہ عطا فرمائےگا جسے وہ اپنے ویران گھر کی زمین کے نیچے پائےگا تو ایسا شخص اہل بصیرت کے نزدیک بےوقوف اور دھوکا کھانے والوں میں شمار ہوتا ہے اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت اور فضل کی طرف نظر کرتے ہوئے یہ کام محال نہیں جس کا وہ منتظر ہے۔ اسی طرح جو آدمی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل کی طرف نظر کرتے ہوئے مغفرت کا منتظر رہتا ہے اور حال یہ ہے کہ اطاعت الٰہی میں سستی کرتا ہے، گناہوں پر ڈٹا رہتا ہے اور مغفرت کے راستے پر نہیں چلتا تو وہ بھی اہل دل کے ہاں بےعقلوں میں شمار ہوتا ہے۔
ایسے بےوقوف شخص کی عقل اور اس کی حماقت پر تعجب ہے کہ کس طرح اپنی حماقت کے لئے اچھے الفاظ استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کریم ہے اور اس کی جنّت میرے جیسے لوگوں کے لئے تنگ نہیں ہے اور میرے گناہ اسے کچھ نقصان نہیں دیتے۔“ حالانکہ تم دیکھوگے کہ دنیا کا مال کمانے میں وہ سمندروں کا سفر کرتا ہے اور دینار (یعنی روپے پیسے) کی طلب میں مشکلات برداشت کرتا ہے اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ”بےشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کریم ہے اور اس کے خزانوں کے دینار تمہارے فقر سے کم نہ ہوں گے اور تمہارا تجارت میں سستی کرنا تمہیں نقصان نہ دےگا پس تم گھر بیٹھ جاؤ عنقریب وہ تمہیں وہاں سے روزی دےگا جہاں تمہارا گمان نہ ہوگا۔“ تو وہ شخص اس قائل کا مذاق اڑائےگا اور اسے بےوقوف قرار دیتے ہوئے کہے گا:”یہ کیسی بےعقلی ہے! آسمان سونا اور چاندی نہیں برساتا یہ چیزیں تو کمانے سے حاصل ہوتی ہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ جوکہ اسباب مہیّا فرمانے والا ہے اس نے اسی طرح ان کو مقدر فرمایا ہے اور اسی طرح اپنا طریقہ جاری کیا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا طریقہ تبدیل نہیں ہوتا۔“ حالانکہ دھوکے کا شکار شخص یہ بات نہیں جانتا کہ آخرت اور دنیا کا رب ایک ہی ہے اور اس کا طریقہ دونوں جہانوں میں تبدیل نہیں ہوتا اور اسی کا فرمان ہے: وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ (پ۲۷،النجم:۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔