Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
137 - 882
 سانس کے لئے خاتمہ ہے کیونکہ ممکن ہے موت اسی سانس سے ملی ہوئی ہو لہٰذا تمام سانسوں کی حفاظت کرنی چاہئے ورنہ بندہ ممنوع کاموں میں جاپڑے گا اور ہمیشہ کی حسرت میں مبتلا ہوجائےگا مگر اس وقت کی حسرت کچھ فائدہ نہ دےگی۔
”نَفْسِ اَمَّارَہ“ کسے کہتے ہیں؟
٭…چوتھا طبقہ: توبہ کرنے والوں کا ایک طبقہ ان لوگوں کا ہے جو توبہ کرکے کچھ مدت اس پر قائم رہتے ہیں پھر گناہوں میں جاپڑتے ہیں اور دوبارہ توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے کئے پر افسوس کرتے ہیں بلکہ شہوات کی پیروی میں غافل انسان کی طرح منہمک ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ گناہوں پر اصرار کرنے والوں میں سے ہیں اور یہ نفس ”نَفْسِ اَمَّارَہ“ کہلاتا ہے جو برائی کا حکم دینے اور بھلائی سے بھاگنے والا ہے۔ ایسے شخص کے برے خاتمے کا خوف ہے اور اس کا معاملہ مشیّت الٰہی پر ہوتا ہے۔ اگر اس کا خاتمہ برائی پر ہو تو وہ بڑا ہی بدبخت ہے کہ جس کی بدبختی کی انتہا نہیں اور اگر بھلائی پر خاتمہ ہو کہ اسے توحید پر موت آئے تو اس کے لئے جہنم سے چھٹکارے کی امید ہے اگرچہ ایک عرصہ بعد اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی پوشیدہ عمل کے سبب عام معافی اس کے شامل حال ہوجائے جیساکہ یہ محال نہیں کہ کوئی شخص خزانے کی تلاش میں کسی ویران جگہ جائے اور اتفاقاً اسے خزانہ مل جائے اور اسی طرح یہ بھی محال نہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کسی کو گھر بیٹھے بغیر سیکھے کئی علوم عطا فرمادے جیساکہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا معاملہ ہے۔
بخشش اس کے کرم سے ہے:
	عبادات کے ذریعے بخشش طلب کرنے کی مثال محنت اور تکرار کے ذریعے علم اور تجارت وسفر کے ذریعے مال حاصل کرنے  کی طرح ہے جبکہ برے اعمال کے باوجود محض امید پر مغفرت طلب کرنا ویران جگہ خزانہ تلاش کرنے اور فرشتوں کے ذریعے علم حاصل  کرنے کی طرح ہے اور محنت کے بعد علم کا حاصل ہوجانا، تجارت کے ذریعے مال دار ہوجانا اور نماز وروزے کی پابندی سے بخشش ہوجانا غنیمت ہے۔ عُلَما کے علاوہ تمام لوگ محروم ہیں بلکہ باعمل علما کے علاوہ تمام علما بھی محروم ہیں بلکہ اخلاص کے ساتھ عمل کرنے والوں کے علاوہ تمام عمل والے بھی محروم ہیں اور مخلص لوگ بھی بہت بڑے خطرے میں ہیں۔