لئے تحصیل علم کے اسباب میسر ہوں اور وہ مستقل مزاجی سے علم حاصل کرے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اَزل میں اسے علما میں لکھ دیا گیا ہے۔ اسی طرح اُخروی سعادتوں اور بربادی کا تعلق نیکیوں اور برائیوں سے ہے جوکہ مُسَبِّبُ الْاَسْبَابْ کے حکم سے مقدر ہوچکا ہے جیساکہ مرض اور صحت کا تعلق غذاؤں اور دواؤں سے ہے اور اسی طرح نفس کے لئے فقہ میں مہارت حاصل کرنے اور دنیا میں بلند وبالا منصب حاصل کرنے کا تعلق سستی چھوڑنے اور مسلسل فقہی مسائل پڑھنے سے ہے۔ تو جس طرح ریاستی منصب، عہدۂ قضا اور علمی سبقت کی صلاحیت وہی نفس رکھتا ہے جو طویل فقہی تعلق کی وجہ سے فقیہ بن جاتا ہے اسی طرح اُخروی سلطنت، اس دائمی نعمتوں اور ربُّ العالمین کے قرب کا مستحق وہی دل ہوتا ہے جو طویل تزکیہ وتَطْہِیْر کے سبب طہارت حاصل کرچکا ہو۔ رَبُّ الۡاَرۡبَابْ عَزَّ وَجَلَّ کی اَزلی تدبیر اسی طرح ہے۔ اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ﴿۷﴾۪ۙ فَاَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقْوٰىہَا ﴿۸﴾۪ۙ قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ﴿۹﴾۪ۙ وَ قَدْ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾ (پ۳۰،الشمس:۷ تا۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اورجان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی بےشک مراد کو پہنچا جس نے اُسے ستھرا کیا اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا۔
تاخیر بھی رُسوائی کی علامت ہے:
جب بندہ گناہ میں مبتلا ہو اور حال یہ ہو کہ گناہ نقد(یعنی فوری کرلے) اور توبہ اُدھار کرے تو یہ ذلت ورسوائی کی علامات میں سے ہے۔ حضور نبیّ اکرم،شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:” بندہ 70سال جنتیوں والے اعمال کرتا ہے حتّٰی کہ لوگ اسے جنتی کہنے لگتے ہیں اور اس کے اور جنّت کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے تو وہ جہنمیوں والے عمل کرتا ہے اور جہنم میں جا پڑتا ہے۔“(1)
جب معاملہ ایسا ہے پھر تو خاتمہ کا خوف توبہ پر مقدم ہونا چاہئے اور ہر آنے والی سانس گزرنے والی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم ، کتاب القدر، باب کیفیة الحلق الادمی…الخ،ص۱۴۲۱،حدیث:۲۶۴۳،بتغیر
سنن ابن ماجہ، کتاب ا لوصایا، باب الحیف فی الوصیة،۳/ ۳۰۵، حدیث:۲۷۰۴ ،بتغیر