”نَفْسِ مُسَوِّ لَہ“ کسے کہتے ہیں؟
٭…تیسرا طبقہ: توبہ کرنے والوں کا ایک طبقہ وہ ہے جو توبہ کرکے ایک مدت تک اس پر قائم رہتے ہیں مگر کچھ عرصہ بعد کسی گناہ میں ان پر شہوت غالب آجاتی ہے اور وہ قصداً گناہ کا اِرتکاب کربیٹھتے ہیں کیونکہ غَلَبَۂ شہوت کی وجہ سے وہ عاجز ہوجاتے ہیں لیکن اس کے باوجود عبادات بجالاتے ہیں اور قدرت اور خواہش کے باوجود دیگر گناہوں سے کنارہ کرتے ہیں۔ خواہش انہیں صرف ایک یا دو گناہوں میں مغلوب کرتی ہے جبکہ ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں اس خواہش کو ختم کرنے کی طاقت دے اور اس کے شر سے بچائے اور خواہش پوری کرتے وقت بھی ان کی یہی تمنا ہوتی ہے اور جب ان سے گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو نادم ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کاش! میں ایسا نہ کرتا اور میں اس سے توبہ کروں گا اور اس شہوت کو ختم کرنے کے لئے نفس سے لڑوں گا لیکن ان کا نفس انہیں دھوکے میں مبتلا کردیتا ہے اور وہ روز بروز اپنی توبہ کو توڑتے ہیں۔ اس نفس کو ”نَفْسِ مُسَوِّلَۃ“ کہا جاتا ہے اور ایسا شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اٰخَرُوۡنَ اعْتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِہِمْ خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَیِّئًا ؕ (پ۱۱،التوبة:۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مقر (اقراری) ہوئے اور ملایا ایک کام اچھا اور دوسرا برا۔
انجام خطرے میں ہے:
جو انسان عبادات پر ہمیشگی اختیار کرتا ہے اور جو برائی اس سے سرزد ہو اسے ناپسند کرتا ہے اس کے بارے میں امید ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بخش دے گا لیکن توبہ میں تاخیر وٹال مٹول کرنے کی وجہ سے اس کا انجام خطرے میں ہے۔ ممکن ہے وہ توبہ سے پہلے مرجائے اور اس کا معاملہ مشیّتِ باری تعالیٰ کے سپرد ہوجائے پھر اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فضل وکرم سے اس کے گناہوں کا تدارک فرمادے اور اس کی نیکیوں کی کمی پوری کردے اور اس کی توبہ قبول فرمالے تو وہ سابقین(یعنی مقرّبین) کے ساتھ مل جائے گا اور اگر اس پر بدبختی اور شہوت غالب آجائے تو خوف ہے کہ خاتمہ کے وقت اس پر وہ قول صادق آجائے جو اَزل میں اس کے بارے میں ہوچکا کیونکہ جب طالب علم علمی مشاغل سے دوری اختیار کرتا ہے تو اس کا دوری اختیار کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اَزل میں اسے جاہلوں میں لکھ دیا گیا ہے پس اس کے حق میں (کامیابی کی) امید کمزور ہوجاتی ہے اور اگر اس کے