جاتا ہے۔(1)
٭…لَا بُدَّ لِلۡمُؤۡمِنِ مِنۡ ذَنْبٍ یَّاْتِیۡہِ الۡفَیۡنَةَ بَعۡدَ الۡفَیۡنَةِ یعنی بتقاضائے بشریت مومن سے گناہ سرزد ہوجاتا ہے۔
یہ سب اس بات پر قطعی دلائل ہیں کہ اس قدر گناہ کا سرزد ہوجانا توبہ کے منافی نہیں اور ایسا شخص گناہ پر اصرار کرنے والوں میں شمار نہیں ہوتا۔ جو شخص ایسے لوگوں کو توبہ کرنے والوں کے درجہ سے مایوس کرے وہ اس ڈاکٹر کی طرح ہے جو تندرست آدمی کو کبھی کبھار پھل اور گرم غذا کھانے کی وجہ سے دائمی صحت سے مایوس کردے اور اس شخص کی مثال اس فقیہ کی طرح ہے جو فقہ کے کسی طالب علم کو درجہ فقہا تک پہنچنے سے اس وجہ سے مایوس کردے کہ وہ بعض اوقات سبق کا تکرار نہیں کرتا حالانکہ اس کی یہ کوتاہی دائمی یا بکثرت نہیں ہوتی۔ یہ بات تو خود اس ڈاکٹر اور فقیہ کے ناقص ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ دین کا فقیہ تو وہ ہوتا ہے جو کبھی کبھار کی معمولی لغزشوں اور گناہوں کی وجہ سے مخلوق کو سعادتوں کے درجات کے حصول سے مایوس نہیں کرتا۔
٭…سرکاردوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے:کُلُّ بَنِیۡ اٰدَمَ خَطَّاءُ وۡنَ وَ خَیۡرُ الۡخَطَّائِیۡنَ التَّوَّابُوۡنَ الۡمُسۡتَغۡفِرُوۡنَ یعنی تمام انسان خطا کرتے ہیں لیکن ان میں سے اچھے وہ ہیں جو توبہ کرتے اور بخشش طلب کرتے ہیں۔(2)
٭…اَلْمُؤْمِنُ وَاہٍ رَّاقِعٌ فَخَیْرُھُمْ مَّنْ مَّاتَ عَلٰی رَقْعِہٖ یعنی مومن (رب تعالیٰ سے اپنا تعلق) کمزور اور مضبوط کرنے والا ہے اور ان میں سے بہتر وہ ہے جو تعلق مضبوط کرتے ہوئے انتقال کرجائے۔(3)
یعنی گناہ کے ذریعے اپنے تعلق کو کمزور کرتا ہے اور توبہ اور ندامت سے اسے مضبوط کرتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
اُولٰٓئِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ بِمَا صَبَرُوۡا وَیَدْرَءُوۡنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ (پ۲۰،القصص:۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا بدلہ اُن کے صبر کا اور وہ بھلائی سے برائی کو ٹالتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی تعریف اس لئے نہیں فرمائی کہ انہوں نے گناہ کیا ہی نہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند ابی یعلی ، مسند انس بن مالک،۳/ ۱۲۵، حدیث : ۳۰۶۸
2…سنن الترمذی،کتاب صفة القیامة، باب۴۹،۴/ ۲۲۴،حدیث : ۲۵۰۷،دون’’المستغفرون‘‘
موسوعة لابن ابی الدنیا،کتاب التوبة،۳/ ۴۲۱،حدیث:۱۷۸
3…شعب الایمان،باب فی معالجة کل ذنب بالتوبة ،۵/ ۴۱۹،حدیث : ۷۱۲۳