Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
133 - 882
 اس سے الگ ہوتا ہے۔
بھرپور کوشش کا نتیجہ:
	انسان کی بھرپور کوشش کا نتیجہ یہی ہے کہ اس کی اچھائی اس کی برائی پر غالب آجائے تاکہ اس کی نیکیاں زیادہ ہوں اور نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوجائے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ گناہوں کا پلڑا بالکل ہی خالی ہو تو یہ بہت بعید ہے۔ انہی لوگوں کے لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے اچھا وعدہ ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
اَلَّذِیۡنَ یَجْتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ ؕ (پ۲۷،النجم:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو بڑے گناہوں اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے بےشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے۔
	سرزد ہونے والا ہر چھوٹا گناہ جس پر آدمی کا دل مطمئن نہ ہو وہ اسی لائق ہے کہ اسے”اَللَّمَم“میں شمار کیا جائے جس کو معاف کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوۡۤا اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمْ۟(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ کہ جب کوئی بےحیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں۔
	ان لوگوں نے خود پر ظلم کیا اس کے باوجود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کی تعریف فرمائی ہے کیونکہ وہ لوگ نادم ہوتے اور اپنے نفوس کو ملامت کرتے ہیں۔
توبہ کرنے والوں کے متعلق احادیث مبارَکہ:
٭…اسی مرتبے کی طرف حضورنبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان مبارک میں اشارہ ہے جسے حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے روایت فرمایا:”خِیَارُکُمۡ کُلُّ مُفۡتَنٍ تَوَّابٌ یعنی تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو گناہ ہوجانے پر کثرت سے توبہ کرے۔“(1)
٭…اَلۡمُؤۡمِنُ کَالسُّنۡبُلَةِ یَفِیۡئُ اَحۡیَانًـا وَّ یَمِیۡلُ اَحۡیَانًـا یعنی مومن (گندم کی) بالی کی طرح ہے کبھی پھلتا پھولتا ہے اور کبھی مرجھا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، السابع والاربعون ، باب فی معالجة کل ذنب بالتوبة،۵/ ۴۱۸،حدیث : ۷۱۲۱