حامل ہوتے ہیں کیونکہ نیکی ہر گناہ کو مٹادیتی ہے۔
شرط اگرچہ بعید ہے لیکن بےحد مفید ہے:
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ گناہ گار نے جس گناہ کا ارتکاب کیا وہ اسی وقت معاف ہوتا ہے جب وہ شخص سچی شہوت کے ساتھ دس مرتبہ اس گناہ پر قادر ہونے کے باوجود اس سے باز رہے اور محض خوفِ الٰہی کی وجہ سے شہوت کو توڑدے۔
اگرچہ یہ شرط بعید از قیاس ہے لیکن بالفرض اگر اسے مان لیا جائے تو اس کا اثر کس قدر زیادہ ہوگا اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال کمزور مرید کو چاہئے کہ اس راستے کا چناؤ نہ کرے کہ اس طرح شہوت بھڑکے گی اور اسباب مہیّا ہوں گے حتّٰی کہ وہ گناہ پر قادر ہوجائے گا پھر اس سے بچنے کی طمع کرے گا (مگر بچنا مشکل ہوجائے گا) کیونکہ قوی امکان ہے کہ شہوت کی لگام اس کے اختیار سے باہر ہوجائے اور وہ گناہ کا ارتکاب کربیٹھے اور اس کی توبہ ٹوٹ جائے۔ بلکہ اسے چاہئے کہ شروع ہی سے گناہوں کی طرف لےجانے والے اسباب سے راہِ فرار اختیار کرے حتّٰی کہ اپنے اوپر ان کا راستہ بند کردے اور ساتھ ہی جس قدر ہوسکے شہوت کو توڑنے کی کوشش بھی کرتا رہے تاکہ شروع سے ہی اس کی توبہ محفوظ رہے۔
”نَفْسِ لَـوَّامَہ“کسے کہتے ہیں؟
٭…دوسرا طبقہ: یہ ہے کہ توبہ کرنے والا فرائض کی بجاآوری اور تمام کبیرہ گناہوں کو چھوڑنے میں استقامت کا راستہ اختیار کرتا ہے لیکن پھر بھی روزمرّہ کے معمولات کے دوران بلاقصد وارادہ کچھ گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور جب کبھی اس سے گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو اپنے نفس کو ملامت کرتا، نادم ہوتا اور افسوس کرتا ہے بلکہ اپنے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ اس گناہ کے اسباب سے بھی بچنے میں کمال احتیاط کرے گا جن کی وجہ سے گناہ کا ارتکاب ہوا۔ یہ نفس ”نَفْسِ لَوَّامَہ“ کہلانے کے زیادہ لائق ہے کیونکہ یہ آدمی کو ان برے احوال پر ملامت کرتا ہے جو بلاقصد وارادہ صادر ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی ایک بلند درجہ ہے اگرچہ پہلے درجے کے مقابلے میں کم ہے۔
توبہ کرنے والوں کا عام طور پر یہی حال ہوتا ہے کیونکہ شر انسان کی فطرت میں شامل ہے جوکہ کم ہی