گزشتہ کوتاہیوں کا تدارک کرلیتا ہے اور اس کا نفس اسے گناہوں کی طرف لوٹنے کی دعوت نہیں دیتا البتہ بتقاضائے بشریت جن سے چھٹکارا ممکن نہیں وہ لغزشیں سرزد ہوجاتی ہیں کیونکہ وہ نبوت کے رتبہ پر فائز نہیں۔ اسی کو توبہ پر استقامت کہا جاتا ہے۔ ایسا شخص نیکیوں میں سبقت لے جاتا ہے اور اس کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا جاتا ہے۔ اس توبہ کو ”تَوْبَۃُ النُّصُوْح“ کہتے ہیں اور گناہوں سے باز آجانے والا یہ نفس ”نَفْسِ مُطْمَئِنَّہ“ کہلاتا ہے جو اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی طرف اس حال میں لوٹتا ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے راضی ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف حضور اکرم، شہنشاہِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس ارشادِ عالی سے اشارہ فرمایا:”سَبَقَ الۡمُفۡرِدُوۡنَ الۡمُسۡتَھۡتِرُوۡنَ بِذِکۡرِ اللہ تَعَالٰی وَضَعَ الذِّکۡرُ عَنۡھُمۡ اَوۡزَارَھُمۡ فَوَرَدُوۡا الۡقِیَامَةَ خِفَافًا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کے شیدائی سبقت لے گئے اور ذکر الٰہی نے ان کے بوجھ اتاردئیے پس وہ قیامت کے دن ہلکے بوجھ سے آئیں گے۔“(1)
حدیْثِ پاک میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ گناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اور ذکرِالٰہی نے ان سے یہ بوجھ اتار دیے۔
اس طبقہ کے لوگوں کے مراتب خواہشات کا مقابلہ کرنے کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ کچھ کی خواہشات معرفت کے غلبہ کی وجہ سے دب جاتی ہیں تو نفس سے مقابلہ کرنا ان کے لئے آسان ہوجاتا ہے اور ان کے راہ ِ سلوک میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اور بعض لوگ وہ ہیں جو ہروقت نفس سے مقابلہ کرتے رہتے ہیں لیکن وہ نفس سے مجاہدے اور اسے مغلوب کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
اسی طرح مقابلہ کرنے والوں کے درجات میں کثرت وقلت اور مدت ونَوْعیَّت مختلف ہونے کے اعتبار سے بھی تفاوت ہوتا ہے اور عمر کے اعتبار سے بھی درجات مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ توبہ کرتے ہی فوت ہوجاتے ہیں، ایسے لوگ قابل رشک ہوتے ہیں کیونکہ وہ سلامتی کے ساتھ اور کوتاہی کے ارتکاب سے پہلے ہی رخصت ہوجاتے ہیں۔ بعض توبہ کے بعد عرصہ دراز تک زندہ رہتے ہیں اور ان کا مجاہدہ اور صبر تادیر رہتا ہے اور ان کی استقامت لمبے عرصہ تک ہوتی ہے اور نیکیاں کثیر ہوتی ہیں، یہ لوگ افضل واعلیٰ مقام کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… سنن الترمذی ، کتاب احادیث شئی، باب فی العفو والعافیة،۵/ ۳۴۲،حدیث : ۳۶۰۷