تمہارے لئے جواز کی دلیل ہو۔“ (1)
ایک روایت میں ہے:”اِنَّمَا اَسۡھُوْ لِاُسَنَّ یعنی میں اس لئے بھولتا ہوں کہ میری پیروی کی جائے۔“(2)
اس بات پر تمہیں تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اپنی اُمتوں پر اسی طرح شفیق ہوتے ہیں جس طرح بچے باپ کی شفقت میں ہوتے ہیں اور جیسے جانوروں پر چرواہا شفقت کرتا ہے۔
بچوں کی تربیت کا طریقہ:
کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب باپ اپنے بچے کو بولنا سکھانا چاہتا ہے تو کیسے وہ خود بھی بچوں کی طرح باتیں کرتا ہے جیساکہ حضرت سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور منہ میں ڈال لی تو حضور نبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن سے فرمایا:”کَخْ کَخْ“۔(3) حالانکہ سرکار دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فصاحت اس بات سے عاجز نہ تھی کہ آپ یوں فرماتے”یہ کھجور پھینک دو یہ حرام ہے“ لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جانتے تھے کہ بچہ یہ کلام سمجھ نہ سکے گا لہٰذا فصاحت کو چھوڑ کربچے کی سمجھ کے مطابق کلام فرمایا۔ یوں ہی جو شخص کسی بکری یا پرندے کو سکھاتا ہے تو جانوروں اور پرندوں کی نقل کرتے ہوئے بکری کی آواز اور سیٹی کی آواز نکالتا ہے اور یہ ان کو سکھانے کے لئے ایسا کرتا ہے۔
تمہیں اس قسم کی باریک باتوں سے غافل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہاں عارفین کے قدم پھسل جاتے ہیں غافل تو کسی شمار میں ہی نہیں۔ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کے لطف وکرم کے سبب حسن توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
دوسری فصل: دوام توبہ کے سلسلے میں لوگوں کی اقسام
جان لو! توبہ کرنے والوں کے چار طبقات ہیں۔
”تَوْبَۃُ النُّصُوْح“ اور ”نَفْسِ مُطْمَئِنَّہ“:
٭…پہلا طبقہ: یہ ہے کہ انسان گناہوں سے توبہ کرے اور آخر عمر تک اس پر قائم رہے۔ ایسا شخص اپنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح الزرقانی علی المواھب،المقصدالتاسع،الباب الاول،الفصل الرابع،۱۰/ ۴۴۹،’’لاشرع‘‘بدلہ’’لاسن‘‘
2…موطاامام مالک،کتاب السھو،باب العمل فی السھو،۱/ ۱۰۸،حدیث:۲۲۸
3… بخاری ، کتاب الجھاد والسیر، باب من تکلم بالفارسیة والرطانة،۲/ ۳۳۱،حدیث :۳۰۷۲