Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
13 - 882
توبہ کی مختلف تعریفات:
٭…اکثر اوقات لفظ توبہ کااطلاق صرف نَد امت پر ہوتا ہے جبکہ علم اس وقت مقدمے کی حیثیت رکھتا ہے اور ترکِ گناہ کا ارادہ اس کا ثَمَرہ ونتیجہ قرار پاتا ہے۔ اسی اعتبار سے حُضُورسیِّدعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرما یا:”اَلنَّدَمُ تَوۡبَةٌ یعنی ندامت توبہ ہے۔“(1)
	کیونکہ ندامت اس علم سے خالی نہیں ہوتی جو اس کے پیداہونے کاسبب ہے اور نہ ہی اس پختہ ارادہ سے خالی ہوتی ہے جو ندامت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ پس ندامت اپنی دونوں طرفوں یعنی علم وارادہ کے درمیان گھری ہوئی ہے۔ اسی لحاظ سے توبہ کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ ”گزشتہ خطا پر باطن کا پگھلنا تو بہ ہے“ اس تعریف میں صرف دل کے درد کا ذکر ہے اسی لئے کسی شاعر نے کہا:
ھُوَ نَارٌ فِی الْـقَلْبِ تَلْـتَھِبُ	وَصَدْعٌ فِی الْـکَبِدِ لَا یَـنْشَعِبُ
	ترجمہ: توبہ دل میں بھڑکنے والی آگ اور نہ پھیلنے والا جگر کا درد ہے۔
٭…ترکِ گناہ کے لحاظ سے توبہ کی تعریف یہ بھی کی گئی ہے:ظلم کا لباس اتار کر وفا کافرش بچھا دینا۔
٭…حضرت سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں:”بُری حرکتوں کو اچھے افعال سے بدلنے کا نام توبہ ہے اور یہ معاملہ تنہائی، خاموشی اور حلال کھانے سے پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔“
	گویا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے توبہ کے تیسرے معنیٰ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ توبہ کی تعریف میں اس قدر اقوال ہیں کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ جب تم ان تین معانی، ان کے لوازمات اور ان کی ترتیب کو سمجھ لوگے تو یہ بھی جان لوگے کہ واقعی توبہ کی تعریف میں جوکچھ کہا گیا ہے وہ توبہ کے تمام معانی کا احاطہ کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ اُمور ومعاملات کی حقیقتوں کا علم سیکھنا صرف الفاظ سیکھنے سے زیادہ اہم ہے۔
دوسری فصل:	         		 توبہ کا وجوب اور اس کی فضیلت
	جان لیجئے کہ توبہ کا واجب ہونا آیاتِ مبارَکہ واحادیْثِ مقدّسہ سے ظاہر ہے اور یہ نورِبصیرت کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب ذکر التوبة،۴/ ۴۹۲،حدیث:۴۲۵۲