رات بھر خوب روئے اور غمزدہ ہو تاکہ طویل غم کی وجہ اس کا عزم پختہ ہوجائے کہ وہ آئندہ ایسا کام نہ کرے گا اور اگر اسے سبق حاصل ہوچکا ہو اور نفس پر پختہ یقین ہو کہ وہ آئندہ ایسا کام نہیں کرے گا تو پل توڑنے پر افسوس کرنے کے بجائے سفر اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے اور یہ بات وہی شخص جانتا ہے جو راستہ، مقصد، رکاوٹ اور سفر کرنے کی معرفت رکھتا ہے۔ ہم نے ”علم کے بیان“ میں اشارۃً اس کا ذکر کیا ہے۔
دوامِ توبہ کی شرط:
ہم (یعنی سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی)کہتے ہیں دوام توبہ کی شرط یہ ہے کہ اُخروی نعمتوں کے بارے میں بکثرت غور وفکر کرے تاکہ اس کی رغبت زیادہ ہو لیکن اگر وہ نوجوان ہے تو اسے چاہئے کہ ان نعمتوں کے بارے میں زیادہ غور وفکر نہ کرے جن کی مثل دنیا میں ہیں مثلاً حوریں اور محلات کیونکہ بعض اوقات یہ فکر رغبت کو حرکت دیتی ہے اور انسان انہیں جلد پانے کی کوشش کرتا ہے تاخیر پر راضی نہیں ہوتا لہٰذا اسے چاہئے کہ فقط دیدارِالٰہی کی لذّت ولطف کے بارے میں سوچے کہ دنیا میں اس کی مثل کچھ نہیں ہے۔ اسی طرح گناہوں کو یاد کرنا بھی بعض اوقات شہوت کا مُحَرِّک ہوتا ہے اور مُبْتَدی سالِک کو بھی اس سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے پس ایسی صورت میں مبتدی سالک کے لئے بھی گناہ کو بھول جانا افضل ہے۔
حضرت سیِّدنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنی لغزش پر رونا تمہیں ہرگز اس تحقیق کی تصدیق سے نہ روکے اور تمہارا خود کو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر قیاس کرنا انتہائی کج فہمی ہے کیونکہ بعض اوقات وہ اپنے اقوال وافعال کو اس قدر ادنیٰ درجے میں لے آتے ہیں کہ وہ درجات ان کی اُمتوں کے لائق ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کی بعثت تو فقط ہدایت کے لئے ہے، لہٰذا ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ تعلیْمِ اُمَّت کےلئے ایسے کام کریں جن سے امت کو فائدہ پہنچے اگرچہ ان کا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ وہ عام لوگوں کے سے کام کریں۔ مشائخ عُظام میں بھی ایسے ہیں کہ اپنے مرید کو کسی ریاضت کا حکم دیتے ہیں تو اس کی آسانی کے لئے خود بھی اس کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں حالانکہ انہیں مجاہدہ سے فراغت کے بعد قطعاً اس کی حاجت نہیں ہوتی وہ اپنے نفس کو ادب سکھا چکے ہوتے ہیں۔ اسی لئے حضور نبیّ اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”اَمَا اِنِّی لَا اَنۡسِیۡ وَلٰکِنۡ اُنۡسٰی لِاُ شۡرَعَ یعنی سنو! میں بھولتا نہیں بلکہ مجھے بھلایا جاتا ہے تاکہ