Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
128 - 882
 نظر میں یہ(یعنی دوسروں سے بے خبر ہوکر اپنے حال کی خبر رکھنا) باعِثِ کمال ہے اس لئے کہ ان کی ہمت، ارادہ اور کوشش صرف اپنی ذات تک محدود ہوتی ہے، ان کی نظر صرف اپنے حال پر مرکوز رہتی ہے دوسروں کے معاملات کی انہیں کچھ خبر نہیں کیونکہ ان کے نزدیک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تک پہنچنے کا راستہ ان کا اپنا نفس اور ان کے احوال کی منازل ہیں جبکہ لوگوں کی نظر میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تک پہنچنے کا راستہ علم ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تک پہنچنے کے راستے بےشمار ہیں اگرچہ قرب وبعد کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ خوب جانتا ہے کون زیادہ راہ پر ہے اگرچہ اصل ہدایت میں سب شریک ہیں۔
سیِّدُناامام غزالیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی رائے:
	میں (یعنی سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی)کہتا ہوں کہ گناہ کا تصور اور اسے یاد کر کے اس پر گریہ وزاری کرنا مُبْتَدِی(یعنی راہِ سلوک کے ابتدائی مراحل میں موجود شخص) کے حق میں کمال ہے کیونکہ اگر وہ پچھلے گناہ بھول جائے گا تو اس کی ندامت کی آگ کم ہوجائے گی، اس کا راہِ سلوک کا شوق اور ارادہ قوی نہ رہے گا اور نتیجۃً وہ غم اور خوف زائل ہوجائے گا جو اسے گناہوں کی طرف لوٹنے سے روکے ہوئے ہے۔ پس یہ بات یعنی گناہوں کو یاد کرنا غافل(یعنی راہِ سلوک کےابتدائی مسافر)کے لئے تو باعثِ کمال ہے مگر سالِک(یعنی راہِ سُلُوک کی کچھ منازل طے کرنے والے) کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ یہ راہِ سلوک میں رکاوٹ بننے والی مشغولیت ہے جبکہ سالک کو تو چاہئے کہ وہ سلوک کے علاوہ کسی طرف اِلتفات نہ کرے جب اس پر منزل تک پہنچنے کے ابتدائی آثار ظاہر ہوجائیں اور اس پر انوارِ معرفت اور غیب کی چمک منکشف ہوجائے تو وہ اس میں اس طرح مستغرق ہوجائے کہ اس کے لئے گزشتہ احوال کی طرف توجہ کرنے کی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ یہ ہے اس کے لئے کمال۔ (مثال کے طور پر) مسافر کو کسی شہر کی طرف جانا ہے اور راستے میں ایک نہر حائل ہے جس کا پل اس نے توڑدیا تھا اور اب اسے نہر پار کرنے میں بےحد مشقت اٹھانی پڑے پھر اگر وہ نہر پار کرکے اس کے کنارے بیٹھ جائے اور پل توڑنے پر افسوس کرنا شروع کردے تو اس کا افسوس کرنے میں مشغول ہوجانا یہ پہلی رکاوٹ(یعنی نہر پار کرنے) سے فارغ ہونے کے بعد دوسری رکاوٹ ہے۔ ہاں! اگر وہ وقت سفر کا نہ ہو مثلاً رات کا وقت ہے کہ سفر مشکل ہو یا راستے میں مزید نہریں ہیں جن سے گزرنے میں اسے اپنی جان کا خوف ہو توپھر اسے چاہئے کہ پل توڑنے پر