طرف کھینچنے سے عاجز ہوجاتا ہے تو وہ تمہیں دین کے راستے پر چلنے سے نہ روک سکے گا۔ پس جب تم اس پر غالب آگئے اور مقصود حاصل کر لیا تو تم نے کامیابی حاصل کرلی اور جب تک تم مجاہدے میں مشغول رہوگے کامیابی کی طلب میں دور رہوگے۔ اسے یوں سمجھئے مثلاً ایک شخص نے دشمن پر غلبہ پایا اور اسے اپنا غلام بنالیا جبکہ دوسرا ابھی تک لڑرہا ہے اور اسے انجام کی خبر نہیں۔ اسے یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے مثلاً ایک شخص نے شکاری کتے کو سکھایا اور گھوڑے کو سدھایا یہاں تک کہ کتے نے کاٹنا اور کھوڑے نے سرکشی کرنا چھوڑدیا اور اب وہ دونوں اس کے پاس سوئے ہوئے ہیں جبکہ دوسرا شخص ابھی تک ان کو سکھانے میں مشغول ہے۔
اس سلسلے میں ایک فریق سے یہ لغزش ہوئی کہ انہوں نے مجاہدے ہی کو مقصودِ اصلی گمان کرلیا۔ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ یہ تو راستے کی رکاوٹوں سے چھٹکارا پانے کا ذریعہ ہے۔ جبکہ دوسروں نے گمان کیا کہ مقصودِ اصلی خواہشات کا مکمل طور پر خاتمہ کرنا ہے حتّٰی کہ بعض لوگوں نے خود پر اس کا تجربہ کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے بالآخر کہنے لگے ”یہ محال ہے۔“ انہوں نے شریعت کو جھٹلادیا اور اباحت(یعنی شرعی قوانین کی پابندیوں سے آزادی) کے راستے پر چل پڑے اور خواہشات کی اتباع شروع کردی۔ یہ تمام باتیں جہالت اور گمراہی ہیں۔ ان کا ذکرہم ”ریاضت نفس کے بیان “میں کرچکے ہیں۔
گناہ بھلانے یا نہ بھلانے والے کے متعلق اقوالِ صوفیا:
اگر تم کہو کہ توبہ کرنے والے ایسے دو شخصوں میں سے کون افضل ہے جن میں سے ایک نے اپنے گناہوں کو بھلا دیا اور ان کے بارے میں فکرمند نہیں جبکہ دوسرے نے ان کو پیش نظر رکھا اور وہ ہمیشہ انہی میں غور و فکر کرتا اور ان پر ندامت سے جلتا رہتا ہے؟ تو اس بارے میں بھی بزرگان دین کا اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا”توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ تم اپنے گناہوں کو یاد رکھو۔“ جبکہ بعض نے فرمایا:”حقیقت توبہ یہ ہے کہ تم گناہ کو بھول جاؤ۔“ ہمارے نزدیک یہ دونوں اقوال درست ہیں لیکن دو مختلف حالتوں کے اعتبار سے۔
صوفیائے کرام عمومی بات نہیں کرتے بلکہ ان میں سے ہر ایک فقط اپنے حال کی خبر دیتا ہے، انہیں دوسروں کے حال سے کوئی سروکار نہیں ہوتا پس احوال مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے جوابات بھی مختلف ہوتے ہیں اور ازروئے علم یہ بات قابل نقصان ہے کیونکہ اشیاء کی حقیقتوں کو جاننا افضل واعلیٰ ہے جبکہ صوفیا کی