Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
126 - 882
اعتراض جواب:
	اعتراض:اگر کوئی (پیچھے مذکور علمائے بصرہ کے قول پر) اعتراض کرے کہ بےشک آپ کا توبہ کے بعد گناہ کی طرف مائل نہ ہونے والے کو زیادہ سلامتی والا کہنا درست ہے اگرچہ توبہ میں کوتاہی کرے لیکن اس شخص کے لئے ”افضل“ کا لفظ استعمال کرنا درست نہیں۔ یہ ایساہی ہے جیسے کوئی کہے”نامردشخص جماع پر قادرشخص سے افضل ہے کیونکہ یہ شہوت سے محفوظ ہے یا بچہ بالغ سے افضل ہے کیونکہ وہ بھی محفوظ ہے یا مفلس اس بادشاہ سے افضل ہے جو اپنے دوشمنوں پر غلبہ پاتا اور انہیں ختم کرتا ہے کیونکہ مفلس کا کوئی دشمن ہی نہیں جبکہ بادشاہ کبھی مغلوب بھی ہوجاتا ہے اگرچہ اکثر غالب آتا ہے۔
	جواب:یہ بات ایسے آدمی کی طرف سے ہوسکتی ہے جو سلیمُ القلب تو ہو مگر نگاہ صرف ظاہر پر ہوتی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ عزت تو پُرخطر مقامات پر جانے میں ہے اور بلندی حاصل کرنے کے لئے خطروں سے گزرنا شرط ہے۔ ایسی بات کہنے والا تو اس شخص کی مثل ہے جو کہے:”جس شکاری کے پاس گھوڑا اور کتا نہ ہو وہ گھوڑا اور کتا رکھنے والے شکاری کے مقابلے میں شکار کے فن میں افضل ہے اور اس سے بلند مرتبہ ہے کیونکہ اسے گھوڑے کی سرکشی کے باعث گر کر اعضاء ٹوٹنے اور کتے کے کاٹنے کا خطرہ نہیں۔“ حالانکہ یہ بات سراسر غلط ہے بلکہ جس کے پاس گھوڑا یا کتا ہوتا ہے اگر وہ مضبوط ہو اور ان دونوں کی تربیت کا طریقہ جانتا ہو تو وہ بہتر ہے اور شکار کرنے میں کامیابی کے زیادہ لائق ہے۔
٭…دوسری حالت: یہ ہے کہ گناہوں کی طرف نفس کا میلان ختم ہونے کا سبب قوتِ یقین اور سابقہ سچا مجاہدہ ہو اس طرح کہ مجاہدے کے ذریعے شہوت کا زور ٹوٹ چکا ہو حتّٰی کہ نفس آدابِ شریعت سے مزین ہوچکا ہو، اس کی خواہش قوتِ دین کے تابع ہوجائے اور اس کی شہوت قوتِ دین کے غلبہ کے سبب ختم ہوجائے۔ یہ شخص مجاہدہ کرنے والے اس شخص کی نسبت بہتر ہے جسے شہوت کے خاتمے کے لئے تکلیف اٹھانی پڑے۔
	اعتراض:اگر کوئی یہ کہے کہ ایسے شخص کو مجاہدے کی فضیلت تو حاصل نہ ہوگی۔
	جواب:ایسی بات کرنا مجاہدے کے مقصود سے لَاعلم  ہونے کی دلیل ہے کیونکہ مجاہدہ ہی مقصود نہیں بلکہ مقصود تو دشمن کے ضرر کو ختم کرنا ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی خواہشات کی طرف نہ کھینچے اور اگر وہ تمہیں اپنی