اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم کہتے کہ توبہ اس وقت تک قبول نہ ہوگی جب تک توبہ کرنے والا توبہ کے بعد اتنا عرصہ تک زندہ نہ رہے کہ اس زندگی میں کئی بار اس شہوت کے سلسلے میں اپنے نفس سے مجاہدہ کرلے لیکن شریعت اس قسم کی شرط پر بالکل دلالت نہیں کرتی۔
توبہ کرنے والے کے متعلق علما کے اقوال:
اگر تم کہو کہ فرض کریں توبہ کرنے والے دو قسم کے ہیں: ایک کا نفس توبہ کے بعد گناہ کی طرف مائل ہونے سے باز آجاتا ہے جبکہ دوسرے کا نفس اب بھی مائل رہتا ہے لیکن وہ نفس سے جہاد کرتا ہے اور اس گناہ کی طرف جانے سے باز رکھتا ہے تو ان میں سے کون سا افضل ہے؟
یاد رکھو! اس بارے میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت سیِّدُنا ابوالحسن احمد بن ابی الحواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی اور اصحابِ حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ نفس سے مجاہدہ کرنے والا افضل ہے کیونکہ وہ توبہ کے ساتھ ساتھ مجاہدے کی فضیلت بھی رکھتا ہے۔ جبکہ بصرہ کے علما فرماتے ہیں:توبہ کے بعد جس کا نفس گناہ کی طرف مائل نہیں ہوتا وہ افضل ہے کیونکہ اگر وہ اپنی توبہ میں کوتاہی کرے پھر بھی اس مجاہد کی نسبت سلامتی کے زیادہ قریب ہے جس کے مجاہدے میں کوتاہی آسکتی ہے۔
فیصلَۂ امام غزالی:
(سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں)ہر فریق کا قول صحیح ہے لیکن دونوں میں کچھ کمی باقی ہے۔ درست بات یہ ہے کہ جس کے نفس کا گناہ کی طرف میلان ختم ہوگیا اس کی دو حالتیں ہیں۔
٭…پہلی حالت: یہ ہے کہ گناہوں کی طرف میلان ختم ہونے کا سبب فقط شہوت کا کم ہوجانا ہو۔ ایسی حالت میں تو مجاہد اس سے افضل ہے کیونکہ وہ مجاہدے کی وجہ سے گناہ سے باز رہتا ہے جوکہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا یقین قوی اور اس کا دین اس کی شہوت پر غالب ہے اور یہ پختہ دلیل ہے قوتِ یقین اور قوتِ دین کی۔
”قوتِ دین“سے مراد:
قوتِ دین سے میری مراد وہ ارادہ ہے جو اشارۂ یقین سے پیدا ہوتا ہے اور اس شہوت کو ختم کر دیتا ہے جو شیاطین کے اشارے سے بھڑکتی ہے۔ مجاہدہ ان دونوں قوتوں پر قطعی طور پر دلالت کرتا ہے۔