ایک سُوال اور اس کا جواب:
اگر تم کہو کیا عِنِّیْن(1)کی توبہ زنا سے درست ہے جو اس نے اس بیماری سے پہلے کیا ہو؟
جواب: میں کہتا ہوں اس کی توبہ درست نہیں کیونکہ توبہ ایسی ندامت کا نام ہے جو بندے کو گناہ پر قادر ہونے کے باوجود اس سے رکنے کا مضبوط عزم دیتی ہے اور جو بندہ گناہ پر قادر ہی نہیں اس کے لئے گناہ کا امکان خود ہی ختم ہوجاتا ہے نہ کہ اس کے چھوڑنے سے۔ لیکن اگر اس بیماری کے بعد اسے ایسا کشف اورایسی معرفت حاصل ہو جس کے سبب گزشتہ گناہ کا نقصان واضح ہوجائے اور اس معرفت سے گناہوں کے خلاف جلن، افسوس اور ندامت پیدا ہو یہاں تک کہ اگر اسے جماع کی خواہش باقی ہو تو ندامت کی تپش اس خواہش کا قَلع قمع کردے اور اس پر غالب آجائے توپھر مجھے امید ہے کہ یہ اس کے گناہ کا کفارہ اوراسے مٹانے کا سبب بنے کیونکہ اس بات میں اختلاف نہیں ہے کہ اگر وہ عِنِّیْن ہونے سے پہلے توبہ کرے اور اس کے بعد فوراً اس کی موت واقع ہوجائے تو وہ توبہ کرنے والوں میں شمار ہوگا اگرچہ اس پر ایسی حالت طاری نہ ہوئی ہو جس میں شہوت بھڑک اٹھے اور اسے پورا کرنے کے اسباب کا میسر ہونا آسان ہو کیونکہ اس نے توبہ ایسی ندامت کی بنا پر کی ہے کہ اگر اس کا ارادہ ظاہر ہوجاتا تو ندامت اسے لازمی طور پر گناہ سے روک دیتی اور عِنِّیْن کے حق میں بھی ندامت کا اس حد تک قوی ہونا محال نہیں ہے اگرچہ اسے ایسی ندامت کی حاجت نہیں کیونکہ جس آدمی کو کسی چیز کی خواہش نہیں ہوتی اس کا نفس ادنٰی خوف کے سبب بھی اس گناہ کو چھوڑنے پر قادر ہوجاتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دلوں کے حال جانتا ہے اور اس کی ندامت پر بھی مُطَّلَع ہے۔ ممکن ہے اس کی توبہ قبول فرمائے بلکہ ظاہر یہی ہے کہ قبول فرمائے گا۔
ان تمام باتوں میں حقیقت اس بات کی طرف لوٹتی ہے کہ گناہوں کی تاریکی دل سے دو چیزوں کو مٹادیتی ہے:(۱)ندامت کی جلن (۲)شہوت سے چھٹکاراپانے کے لئے مجاہدہ کرنا۔ اگر شہوت نہ ہوتو مجاہدے کی حاجت نہیں مگرندامت کا اس قدر قوی ہونا محال نہیں کہ وہ مجاہدے کے بغیر شہوت کو ختم نہ کرسکے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…عنین اس شخص کو کہتے ہیں کہ اس کا عضو مخصوص تو ہو مگر اپنی بیوی سے آگے کے مقام میں دخول نہ کرسکے۔
(ماخوذ ازبہارشریعت،حصہ۸، ۲/۲۲۸)