فرمایا:”اَلنَّدَمُ تَوۡبَةٌ یعنی نادم ہوجانا توبہ ہے۔“ (1)لیکن ہر گناہ پر ندامت شرط نہیں کہ ایک حدیْثِ پاک”اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنۡبِ کَمَنۡ لَّا ذَنۡبَ لَـہٗ(2)“(3)ہے یہ نہیں فرمایا:”اَلتَّائِبُ مِنَ الذُّنُوْبِ کُلِّھَا“(یعنی تمام گناہوں سے توبہ کا ذکر نہیں بلکہ ”اَلذَّنْبُ“ واحد کا ذکر ہے)۔
اِس تفصیل سے اس قول کا ساقط ہونا واضح ہوگیا کہ”بعض گناہوں سے توبہ ناممکن ہے کیونکہ گناہ خواہش ابھارنے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا باعث بننے میں برابر ہوتے ہیں۔“ بلکہ یہ ممکن ہے کہ انسان شراب پینے سے توبہ کرے لیکن نبیذ(4)سے توبہ نہ کرے کیونکہ ناراضی کا باعث بننے میں دونوں مختلف ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کثیر گناہوں سے توبہ کی جائے اور قلیل سے نہ کی جائے کیونکہ گناہوں کی کثرت زیادہ عذاب کا سبب ہے۔ پس اسی قدر خواہش (عذاب) کا باعث بنتی ہے جسے مغلوب کرنے سے انسان عاجز ہوتا ہے اور بعض خواہشات کو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے چھوڑ دیتا ہے جیسے کسی مریض کو طبیب پھل کھانے سے منع کرے تو وہ تھوڑاسا کھالیتا ہے مگر زیادہ کھانے سے گریز کرتا ہے۔
معلوم ہوایہ ناممکن ہے کہ انسان کسی گناہ سے توبہ کرے اور اسی کی مثل دوسرے گناہ سے توبہ نہ کرے بلکہ جس گناہ سے اس نے توبہ کی ہے ضروری ہے کہ وہ اس کے خلاف ہوگا جو ابھی باقی ہے اور یہ اختلاف گناہ کی شدت یا غَلَبَۂ شہوت کے اعتبار سے ہوگا اور یہ تفاوت واختلاف جب توبہ کرنے والے کے ذہن میں حاصل ہو تو خوف اور ندامت کے اعتبار سے اس کی حالت مختلف ہونے کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے اور گناہ چھوڑنے کے اعتبار سے بھی اس کی حالت مختلف ہونے کا تصور ممکن ہے۔ پس کسی انسان کا گناہ پر نادم ہونا اور ترکِ گناہ کے عزم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اسے ان لوگوں کے ساتھ ملادیتا ہے جو گناہ نہیں کرتے اگرچہ وہ تمام احکامات میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت نہیں کرتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد، باب ذکر التوبة،۴/ ۴۹۲،حدیث:۴۲۵۲
2…یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
3…سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد، باب ذکر التوبة،۴/ ۴۹۱،حدیث:۴۲۵۰
4…وہ مشروب جس میں کھجوریں ڈالی جائیں جس سے پانی میٹھا ہوجائے مگر (اعضاء کو) سست کرنے والا اور نشہ آور نہ ہو، نشہ آور ہو تو اس کا پینا حرام ہے۔(فتاوٰی قاضی خان(خانیہ)،کتاب الطھارة،فصل فی ما لایجوز التوضی،۱/ ۹)