کے علاوہ غیبت، عیب جوئی اور غیرمحرم کی طرف دیکھنے جیسی بری عادات بھی ہوتی ہیں اور ساتھ ہی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف بھی رکھتا ہے لیکن یہ خوف اتنا ہوتا ہے کہ اس سے کمزور خواہش کا تو قَلع قمع ہوجاتا ہے لیکن مضبوط خواہش سے کنارہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی صورت میں خوف کا کوئی لشکر آکر اسے اس گناہ اور مضبوط شہوت کو چھوڑنے پر نہیں ابھارے گا بلکہ فاسق شخص خود اپنے دل میں کہے کہ اگر شیطان غَلَبَۂ شہوت کے واسطے سے بعض گناہوں میں مجھ پر غالب آگیا تو مجھے اس کے رستے کھلے کرکے اور لگام بالکل ڈھیلی چھوڑ کر مکمل طور پر خود کو اس کے قابو میں نہیں دینا چاہئے بلکہ مجھے بعض گناہوں میں اس کا مقابلہ کرنا چاہئے ہوسکتا ہے میں اس پر غالب آجاؤں تو میرا یہ غالب آنا میرے بعض گناہوں کا کفارہ ہوگا۔
اگر اس صورت کا تصور نہیں کیا جاسکتا تو فاسق کے لئے یہ بھی متصوّر نہ ہوتا کہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے بلکہ اس سے کہا جاتا کہ اگر تمہاری نماز غیرُاللہ کے لئے ہے تو وہ اصلاً ہی درست نہیں اور اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لئے فسق کو بھی چھوڑدو کیونکہ نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کے معاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم یکساں ہے پس تمہارا اپنی نماز کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب پانے کا ارادہ کرنا اس وقت تک متصوّر نہیں جب تک تم گناہ نہ چھوڑو۔ حالانکہ یہ محال ہے اس طرح کہ فاسق کہے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے مجھ پر دو حکم ہیں اور ان دونوں کو بجا نہ لانے پر میرے لئے دو سزا ئیں ہیں، ان میں سے ایک کی بجاآوری کے لئے تو میں شیطان کو مغلوب کرنے پر قادر تھا جبکہ دوسرے میں عاجز تھا لہٰذا جس حکم کی بجاآوری کے لئے شیطان کو مغلوب کرنے پر قادر تھا میں نے اسے مغلوب کردیا اور اپنے اس مجاہدے کے سبب میں امید کرتا ہوں یہ میرے ان گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا جن کی بجاآوری سے میں کثرت شہوت کے سبب عاجز رہا اور بھلا اس بات کا تصور کیسے ناممکن ہوسکتاہے جبکہ ہر مسلمان کی یہ حالت ہے کیونکہ ہر مسلمان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت بھی کرتا ہے اور نا فرمانی بھی اور اس کا سبب یہی بات ہے۔
اگر اس بات کو سمجھ لیا جائے تو یہ بھی سمجھ آجائے گا کہ بعض گناہوں کے معاملے میں شہوت کے مقابلے میں خوف کا غالب آجانا ممکن ہے اور خوف اگر گزشتہ عمل سے متعلق ہو تو وہ ندامت کا سبب بنتا ہے اور ندامت عزم وارادے کو جنم دیتی ہے۔ حضور نبیّ اکرم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد