تفاوُت ہے اور ان کے مرتکب لوگوں کی سوچیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ اسی لئے انسان بعض اوقات ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کرتا ہے جن کا حقوقُ العباد سے کوئی تعلق نہیں مثلاً وہ شراب سے توبہ کرتا ہے لیکن زنا سے توبہ نہیں کرتا کیونکہ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ شراب تمام برائیوں کی چابی ہے اور یہ کہ جب عقل زائل ہوجائے تو وہ تمام گناہوں کا ارتکاب کربیٹھے گا اور اسے علم تک نہیں ہوگا پس اس کے نزدیک شراب نوشی کا نقصان زیادہ ہونے کا خوف اسے مستقبل میں شراب نوشی نہ کرنے پر ابھارتا ہے اور گزشتہ فعل پرنادم کرتا ہے۔
تیسری صورت:
توبہ کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان کسی ایک یا زیادہ صغیرہ گناہوں سے توبہ کرے جبکہ کبیرہ کو کبیرہ جانتے ہوئے اس پر ڈٹا رہے۔ مثلاً ایک شخص غیبت(1) یا نامحرم(2) کی طرف دیکھنے یا اسی کی مثل کسی دوسرے گناہ سے توبہ کرلے لیکن شراب نوشی پر ڈٹا رہے۔ ایسا ممکن ہے کیونکہ ہر مومن اپنے گناہوں کے معاملے میں خوف زدہ اور اپنے افعال پر نادم ہوتا ہے چاہے کم ہو یا زیادہ لیکن جس گناہ پر انسان ڈٹا رہے اُس میں اس کی لذّتِ نفس زیادہ مضبوط ہوتی اور اس کے سبب پیدا ہونے والا قلبی دکھ اوردرد کم ہوتا ہے اور اس کی وجہ جہالت وغفلت ہیں جو قلبی خوف کو کم کرتے ہیں اور وہ اسباب ہیں جو شہوات کو قوت بخشتے ہیں۔ ایسی صورت میں ندامت موجود تو ہوتی ہے لیکن عزم وارادہ کرنے پر قادر نہیں ہوتی اورنہ ہی اس لذت نفس سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے جبکہ اگر انسان خواہش کو چھوڑدے تو اس کا قلبی خوف قوی ہوجاتا ہے اور قلبی خوف اس کمزور شہوت پر غالب آجاتا ہے اور گناہ چھوڑنے پر ابھارتا ہے۔
فاسق شخص اور شیطان:
بعض اوقات فاسق شخص کو شراب کی بری عادت اس قدر سخت ہوتی ہے کہ وہ اسے چھوڑ نہیں پاتا اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حضرتِ سیِّدُناامام محمدغزالی،حضرتِ سیِّدُناجلال بلقینی اورصاحب العدہرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے غیبت کوصغیرہ گناہ قراردیا ہے۔
(الزواجر عن اقتراف الکبائر،الکبیرة الثامنة والتاسعة والاربعون بعد المائتین،۲/ ۲۶)
2…شہوت ہونے کی صورت میں نامحرم کودیکھنا کبیرہ گناہ ہے،اگرشہوت وفتنے کا خوف نہ ہوتو کبیرہ گناہ نہیں۔
(ماخوذ من الزواجر عن اقتراف الکبائر،الکبیر ة الثانیة والاربعون والثالثة والاربعون والرابعة والاربعون بعد المائتین،۲/ ۸)