Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
120 - 882
پہلی صورت:
	جہاں تک کبیرہ گناہوں سے توبہ کرنے اور صغیرہ سے نہ کرنے کا تعلق ہے تو یہ صورت ممکن ہے کیونکہ انسان جانتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دربار میں کبیرہ گناہوں کا وبال زیادہ ہے اور وہ جلد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی وعذاب کا سبب بنتے ہیں جبکہ صغیرہ گناہ معافی کے زیادہ لائق ہیں۔ تو بڑے گناہ سے توبہ کرنا اور اسی پر نادم ہونا کوئی محال بات نہیں بلکہ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص بادشاہ اور اس کی بیوی کے خلاف جرم کا مرتکب ہوجائے اور اس کے جانور پر بھی ظلم کر بیٹھے تو وہ بادشاہ کے گھروالوں کے حوالے سے کیے گئے جرم سے خوف زدہ رہتا ہے اس کے مقابلے میں جانور پر کیے گئے ظلم کو معمولی گمان کرتا ہے۔ ندامت اسی قدر زیادہ ہوتی ہے جس قدر انسان گناہ کو بڑا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ سے دور کرنے والا گمان کرتا ہے۔ شریعت میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ گزشتہ زمانوں میں کتنے ہی  توبہ کرنے والے گزرے ان میں سے کوئی بھی معصوم نہ تھا۔ توبہ کے لئے معصوم ہونا ضروری نہیں ہے۔ طبیب بعض اوقات مریض کو شہد کھانے سے نہایت سختی سے منع کرتا ہے جبکہ شکر سے بھی منع کرتا ہے مگر اس میں کچھ نرمی برتتا ہے کیونکہ طبیب جانتا ہے کہ بعض اوقات شکر کا نقصان بالکل ظاہر نہیں ہوتا۔ تو مریض طبیب کی بات مان کر شہد کھانے سے توبہ کرلیتا ہے مگر شکر سے توبہ نہیں کرتا۔ اس طرح کی مثال کا پایا جانا بالکل ممکن ہے اگر مریض اپنی خواہشات کے چنگل میں آکر شہد اور شکر دونوں کھالے تو اسے شہد کھانے پر ندامت ہوگی نہ کہ شکر کے استعمال پر۔
دوسری صورت:
	توبہ کی ایک صورت یہ ہے کہ بعض کبیرہ گناہوں سے توبہ کی جائے اور بعض سے نہ کی جائے۔ یہ صورت بھی ممکن ہے کیونکہ ہوسکتا ہے انسان بعض کبیرہ گناہوں کے بارے میں یہ گمان کرے کہ یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک زیادہ سخت اور بڑے ہیں۔ اس کی مثال اس شخ قیرہ گناہوں کے بارے میں یہ گمان کرے کہ یہ اللہ کبارگاہ سے دور کرنے والا گمان کرتا ہے۔ شریعت میں اس مثال موجود ہے ص کی سی ہے جو قتل، لوٹ مار، ظلم اور بندوں کے حقوق ضائع کرنے سے توبہ کرلے یہ جاننے کے بعد کہ بندوں کے حقوق  کسی صورت معاف نہ ہوں گے جبکہ بندے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے درمیانی معاملہ میں عفو ودرگزر کی امید زیادہ ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ توبہ کرنے والا کبیرہ گناہوں کے درمیان ایسا تفاوُت گمان کرے جیساکہ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں میں ہے کیونکہ خود کبیرہ گناہوں میں بھی