Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
12 - 882
 ہوجاتی ہے تو فُرقَتِ محبوب کے سبَب اس کے دل میں درد اٹھتا ہے کیونکہ جب بھی دل کو محبوب کی جدائی کا علم ہوتا ہے وہ رنجیدہ ہوجاتا ہے۔ پھر اگر محبوب کی دوری کا سبب اس کا اپنا فعل ہو تو اسے اس فعل پر افسوس ہوتا ہے۔ اس افسوس ورنج کو ”نَدامت“ کہتے ہیں۔ پھر اگر یہ رنج دل پرغالب آجائے اور چھا جائے تو دل میں ایک دوسری حالت پید ا ہو تی ہے جسے ”ارادہ اور قصد“ کہتے ہیں اور یہ قصدوارادہ ایسے فعل کا ہوتا ہے جس کاتعلق حال،ماضی اور مستقبل تینوں زمانوں کے ساتھ ہو تا ہے، حال کے ساتھ تعلق موجودہ گنا ہ کو چھوڑنے کے اعتبار سے ہوتا ہے، مستقبل کے ساتھ یوں کہ جو گناہ محبوب سے دوری کا سبب بنا زندگی بھر اسے نہ کرنے کاعَزْم (یعنی پختہ اِرادہ) کیا جاتا ہے اور ما ضی کے ساتھ تعلق کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اگر فوت شدہ عمل کمی پوری  کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو قضا کے ذریعے کمی پوری کرکے اس کی تلافی کی جاتی ہے۔ الغرض علم ہی توبہ کی پہلی سیڑھی اور اِن بھلائیوں کا سَرچَشْمَہ ہے۔
علم سے مراد:
	یہاں علم سے میری مراد ایمان اور یقین ہے کیونکہ ایمان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ گناہ جان لیوا زہر ہیں اور یقین اس تصدیق کوپختہ کرتا اور شک کو دور کرتا ہے نیزاس تصدیق کو دل پر غالب کرتا ہے تو ایمان کا نور پھوٹتا ہے اور دل پر ندامت کی آگ روشن کردیتا ہے جس سے دل میں رنج پیدا ہوتا ہے کیونکہ وہ نورِایمان کی روشنی سے دیکھ لیتا ہے کہ اس کے اور محبوب کے درمیان پردہ حائل ہوگیا ہے۔ جس طرح اندھیرے میں موجود شخص پر سورج کی روشنی، بادلوں کے چھٹ جانے یا پردوں کے سَرک جانے سے روشنی پھیل جاتی ہے اور وہ اپنے محبوب کو دیکھ لیتا ہے حالانکہ وہ ہلاکت کے قریب ہوچکا تھا اسی طرح محبت کی آگ انسان کے دل میں شعلہ زن ہوتی ہے اور تدارُک وتلافی پر اُبھارنے والے ارادے کو جگاتی ہے۔
تین معانی کے مجموعہ کا نام توبہ ہے:
	معلوم ہوا کہ علم، ندامت اور ارادہ جو حال اور مستقبل میں ترکِ گنا ہ اور ماضی میں گناہ کی تلافی سے تعلق رکھتا ہے یہ حُصُوْلِ مراد میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تین معانی ہیں اور ان کے مجموعہ پر ”توبہ“ کا اطلاق ہوتا ہے۔