جانے کا دکھ ہوتا ہے اسی طرح نافرمانی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے چاہے وہ نافرمانی چوری ہو یا زنا۔ تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بعض گناہوں پر تو دکھ ہو اور بعض پر نہ ہو!
ندامت ایک ایسی حالت ہے جو اس بات کو جان لینے کے بعد طاری ہوتی ہے کہ نافرمانی گناہ ہونے کی وجہ سے محبوب کو ضائع کرنے کا باعث ہے اور بعض گناہوں پر نادم ہونا اور بعض پر نہ ہونا متصور نہیں اگر یہ بات جائز ہوتی تو شراب کے دو مٹکے ہونے کی صورت میں ایک مٹکے سے توبہ کرنا اور دوسرے سے نہ کرنا جائز ہوتا مگر یہ بات محال ہے کیونکہ دونوں مٹکوں کی شراب میں گناہ یکساں ہے مٹکے تو محض برتن ہیں۔ پس گناہوں کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ وہ سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کے آلات ہیں اور نافرمانی چاہے کسی بھی طریقے سے ہو اصلاً وہ ایک ہی چیز (یعنی نافرمانی) ہے۔ اس صورت میں توبہ کے صحیح نہ ہونے کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے توبہ کرنے والوں سے ایک مقام ومرتبہ کا وعدہ فرمایا ہے اور وہ رتبہ ندامت کے بغیر نہیں پایا جاسکتا اور یہ متصوّر نہیں کہ (باعتبار نافرمانی) ایک جیسے امور میں سے بعض پر ندامت ہو اور بعض پر نہ ہو۔ اس کی مثال ایجاب وقبول کے بعد ملک حاصل ہونے کی طرح ہے کہ جب تک ایجاب وقبول مکمل نہ ہو ہم یہی کہیں گے کہ عقد صحیح نہیں یعنی اب تک عقد کا نتیجہ اور ملکیت حاصل نہیں۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ گناہ سے باز آجانے کا فائدہ یہی ہے کہ جتنے گناہ چھوڑے ان کے عذاب سے محفوظ رہے گا جبکہ ندامت کا فائدہ یہ ہے کہ گزشتہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔ پس چوری سے باز آجانے سے گزشتہ چوری کا کفارہ ادا نہیں ہوگا بلکہ اس پر ندامت ہونا ضروری ہے اور ندامت اسی وقت متصوّر ہے کہ جب اسے گناہ سمجھے اور اس بات میں تمام گناہ یکساں ہیں۔ یہ ایسا کلام ہےجو سمجھا جانے والا اور حقیقت پر مبنی ہے اور انصاف پسند اس کی ایسی تفصیل بیان کرتا ہے جس سے سارے پردے ہٹ جاتے ہیں۔
توبہ کی تین صورتیں:
ہم (یعنی سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی)کہتے ہیں کہ بعض گناہوں سے توبہ کرنے اور بعض سے نہ کرنے کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:(۱)کبیرہ گناہوں سے توبہ کی جائے اور صغیرہ سے نہیں۔ (۲)بعض کبیرہ گناہوں سے توبہ کی جائے اور بعض سے نہیں۔ (۳)صغیرہ سے توبہ کی جائے اور کبیرہ سے نہیں۔