Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
118 - 882
توبہ کرنے والے کے بارے میں دو مؤقف:
	توبہ کرنے والے کے لئے اہم امور میں سے یہ بھی ہے کہ اگر وہ عالِم نہ ہو تو اس بات کا علم حاصل کرے کہ مستقبل میں اس پر کیا واجب ہے اور کیا حرام ہے یہاں تک کہ اس کے لئے استقامت ممکن ہو۔ اگر وہ تنہائی اختیار کرنے کو ترجیح نہیں دے گا تو اسے مکمل طور پر گناہوں سے چھٹکارے پر استقامت حاصل نہیں ہوگی اگرچہ بعض گناہوں سے توبہ کرلےگا۔ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو چند گناہوں مثلاً شراب نوشی، زنا اور مال غصب کرنے سے توبہ کرلے۔ یہ مکمل توبہ نہیں۔
	بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ توبہ صحیح نہیں اور بعض کہتے ہیں یہ توبہ صحیح ہے۔ اس مقام پر صرف صحیح یا غلط کہہ دینا ناکافی ہے بلکہ ہم کہتے ہیں جو اس توبہ کی صحت کا انکار کرتا ہے اس سے پوچھا جائے کہ صحیح نہ ہونے سے تمہاری کیا مراد ہے؟ اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ بعض گناہ چھوڑنے سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ایسی توبہ کا ہونا نہ ہونا برابر ہے تو تم بہت بڑی غلطی پر ہو کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ گناہوں کا زیادہ ہونا عذاب کے زیادہ ہونے کا سبب بنتا ہے اور گناہوں کی کمی عذاب کی کمی کا باعث ہے۔ جو کہتا ہے کہ یہ توبہ صحیح ہے اس سے کہا جائے اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ بعض گناہوں سے توبہ ایسی قبولیت کا باعث ہے جو نجات یا کامیابی تک پہنچاتی ہے تو یہ بھی خطا ہے بلکہ نجات اور کامیابی تو تمام گناہوں کو چھوڑ دینے میں ہے۔ یہ حکم ظاہر کے مطابق ہے اور ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پوشیدہ رازوں کے متعلق گفتگو نہیں کرتے، انہیں میں سے ایک عفو ودرگزر بھی ہے۔
ندامت کے بغیر توبہ ادھوری ہے: 
	اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ (یعنی بعض گناہوں سے) توبہ صحیح نہیں اور توبہ سے میری مراد ندامت ہے اور جو شخص چوری کرنے پر چوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے نادم ہوتا ہے کہ یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی ہے تو یہ بات محال ہے کہ وہ چوری پر تو نادم ہو لیکن زنا پر شرمندہ نہ ہو۔ اگر اس کی پریشانی کا سبب گناہ سرزد ہوجانا ہے تو یہ علت زنا اور چوری دونوں کو شامل ہے۔ جس آدمی کو اپنے بیٹے کا تلوار سے قتل ہونا دکھ دیتا ہے اس کے لئے بیٹے کا چھری سے قتل ہونا بھی دردآمیز ہوتا ہے کیونکہ اس کی پریشانی کی وجہ تو اس کے پیارے بیٹے کا چلا جانا ہے چاہے وہ تلوار کے ذریعے ہو یا چھری کے ذریعے۔ پس جس طرح بندے کو اپنے پیارے کے چلے