اس سے معلوم ہوا کہ نیکیوں کے پلڑے کے بھاری ہوئے بغیر چھٹکارے کی صورت نہیں اگرچہ ذرّہ برابر ہی بھاری ہو۔ لہٰذا توبہ کرنے والے کو کثرت سے نیکیاں کرنی چاہئیں۔ یہ ماضی میں ہونے والے اعمال سے توبہ کا قصد وارادہ کرنے کا حکم ہے۔
تکمیل توبہ کے لئے ضروری اُمور:
جہاں تک مستقبل کے عزائم کا تعلق ہے تو ضروری ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے پکا وعدہ کرے اور پختہ عہد کرے کہ آئندہ نہ تو کبھی ان گناہوں کی طرف آئے گا اور نہ ہی ان جیسے دوسرے گناہوں کا مُرتکِب ہوگا جیساکہ ایک بیمار شخص جو جانتا ہے کہ بیماری میں اسے پھل نقصان دے گا تو وہ نہایت پختہ عہد کرتا ہے کہ جب تک اس کی بیماری دور نہیں ہوجاتی وہ پھل نہیں کھائے گا۔ فی الحال اس کایہ عزم پختہ ہونا چاہئے اگرچہ یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں پھر کبھی اس پر خواہش غالب آجائے۔ لیکن جب تک فی الحال اس کا ارادہ پکا نہ ہو گا وہ توبہ کرنے والا شمار نہیں ہوگا۔ توبہ کرنے کے بعد فی الحال اسے اپنی توبہ پوری کرنے کے لئے درج ذیل امور پر عمل پیرا ہونا ہوگا: تنہائی اختیار کرنا،خاموش رہنا،کم کھانا،کم سونااورحلال رزق بقدر کفایت جمع کرنا۔
اگر وراثت میں حلال مال ملا ہے یا اس کا کوئی پیشہ ہے جس سے بقدر ضرورت کماتا ہے تو اسی پر قناعت کرنا کیونکہ گناہوں کی جڑ حرام مال کھانا ہے اور حرام مال جمع کرنے والا کیسے توبہ کرسکتا ہے؟ جو شخص کھانوں اور لباس کے سلسلے میں خواہش کو چھوڑنے پر قادر نہیں ہوتا وہ نہ تو حلال پر اکتفا کرسکتا ہے اور نہ ہی شبہات والی چیزوں کو چھوڑسکتا ہے۔
دوبارہ کبھی گناہ میں مبتلا نہ ہونے کا نسخہ:
کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول ہے:جو شخص سچے دل سے خواہش کو چھوڑے اور سات مرتبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اپنے نفس سے جہاد کرے وہ اس خواہش میں مبتلا نہیں ہوگا۔
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:جو انسان کسی گناہ سے توبہ کرے پھر سات سال تک اپنی توبہ پر قائم رہے وہ کبھی اس گناہ کی طرف نہ لوٹے گا۔