Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
116 - 882
آیا اور بتایا کہ اس نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا اس کی توبہ قبول ہوگی؟ راہب نے جواب دیا: نہیں۔ اس شخص نے اسے بھی قتل کردیا یوں اس کے پورے سو قتل ہوگئے۔ پھر کسی بڑے عالم کے بارے میں پوچھا تو ایک عالِم کی طرف اس کی راہ نمائی کی گئی۔ اس نے عالم کو بتایا کہ اس نے سو قتل کیے ہیں کیا اس کی توبہ قبول ہوگی؟ عالِم صاحب نے کہا: ہاں! تمہارے اور تمہاری توبہ کے درمیان کون حائل ہوسکتا ہے۔ فلاں علاقے کی طرف جاؤ، وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں، تم بھی ان کے ساتھ مل کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کرو اور اپنے علاقے کی طرف واپس نہ آنا کیونکہ وہ برا علاقہ ہے۔ وہ چلا گیا۔ جب آدھا راستہ طے کرچکا تو اسے موت آگئی۔ اب رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں جھگڑنے لگے، رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ یہ شخص صِدق دل سے توبہ کرکے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف جا رہا تھا اور عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی کوئی اچھا عمل نہیں کیا۔ اسی اثنا میں ان کے پاس ایک فرشتہ انسانی صورت میں آیا۔ انہوں نے اپنا فیصلہ کرنے کے لئے اسے حَکم بنالیا۔ اس نے کہا دونوں طرف کی زمینوں کی پیمائش کرو جس علاقے کے قریب ہوگا اسی سے قرار دیا جائے گا۔ انہوں نے زمین کی پیمائش کی تو دیکھا کہ جس طرف  کا اس نے قصد کیا تھا وہ اس زمین کے زیادہ قریب تھا۔ چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اسے لے لیا۔(1)
	ایک روایت میں ہے کہ ”وہ ایک بالشت نیک لوگوں کی بستی کے زیادہ قریب تھا۔ چنانچہ اسے ان میں سے قراردیا گیا۔“(2) 
	جبکہ ایک روایت میں ہے:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس (پہلی زمین) سے فرمایا دور ہوجا اور اس (نیک لوگوں کی بستی) سے فرمایا قریب ہوجا اور فرشتوں سے فرمایا ان دونوں کے درمیان فاصلے کی پیمائش کرو۔ چنانچہ انہوں نے اسے ایک بالشت (نیکوں کی بستی کے) زیادہ قریب پایا تو اس کی بخشش فرمادی گئی۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب التوبة، باب قبول التوبة القاتل وان کثر قتلہ،ص۱۴۷۹،حدیث: ۲۷۶۶
	صحیح  البخاری ، کتاب احادیث الانبیاء باب ۵۶، ۲/ ۴۶۶، الحدیث :۳۴۷۰،مختصرًا
2…مسلم، کتاب التوبة، باب قبول التوبة القاتل وان کثر قتلہ،ص۱۴۷۹،حدیث: ۲۷۶۶
	صحیح  البخاری ، کتاب احادیث الانبیاء باب ۵۶، ۲/ ۴۶۶، الحدیث : ۳۴۷۰
3…مسلم، کتاب التوبة، باب قبول التوبة القاتل وان کثر قتلہ،ص۱۴۷۹،حدیث: ۲۷۶۶
	صحیح  البخاری ، کتاب احادیث الانبیاء باب ۵۶، ۲/ ۴۶۶، الحدیث : ۳۴۷۰