کی طرح نیکیوں کے ذریعے پورا کرے۔
حقُ العبد معاف کروانے کا طریقہ:
یاد رہے! گناہ کو ذکر کرنا اور دوسروں کو اس پر آگاہ کرنا ایک نیا گناہ ہے جس کی الگ معافی مانگنا پڑے گی۔ البتہ! جس کا حق تلف کیا ہے اس کے سامنے بیان کرے لیکن اگر وہ معاف کرنے پر راضی نہ ہوا تو گناہ اِس کے ذمہ باقی رہے گا کیونکہ معاف نہ کرنا اس کا حق ہے۔ اِسے چاہئے کہ اُس سے نرمی کا سلوک کرے، اس کے کام کاج اور ضروریات میں مدد کرے اور اس سے محبت اور شفقت کا اظہار کرے تاکہ اُس کا دل اِس کی طرف مائل ہو کہ (مشہور مقولہ ہے) انسان احسان کا غلام ہے۔
جو شخص برائی کے سبب دور ہوتا ہے وہ نیکی کے ذریعے مائل ہوجاتا ہے۔ پس جب محبت وشفقت کی کثرت ہوگی اور اس وجہ سے اُس کا دل خوش ہوگا تو وہ خود معاف کرنے پر تیار ہوجائے گا لیکن اگر وہ اس کے باوجود معاف نہ کرنے پر اصرار کرے تو ممکن ہے کہ اس سے نرمی وشفقت کا سلوک اور عذر پیش کرنا مجرم کی ان نیکیوں میں شمار ہوجائے جن کے ذریعے قیامت کے دن اس کی زیادتیوں کا بدلہ چکایا جائے۔ بہرحال اِسے چاہئے کہ محبت وشفقت کے ذریعے اُسے خوش کرنے کی کوشش اسی طرح کرتا رہے جس طرح اُسے تکلیف پہنچانے میں کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ ایک عمل دوسرے کے برابر یا اس سے زائد ہوجائے تو بروز قیامت بحکمِ الٰہی بدلے میں اِس کا یہ عمل قبول کرلیا جائے گا جیسے کوئی شخص دنیا میں کسی کا مال ہلاک کردے پھر اس کی مثل لائے لیکن مال کا مالک اسے قبول کرنے یا معاف کرنے سے انکار کردے تو حاکم اس مال پر قبضہ کرنے کا فیصلہ دے گا چاہے وہ قبول کرے یا نہ کرے۔ اسی طرح میدانِ قیامت میں سب سے بڑا حاکم اور سب سے زیادہ انصاف کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ حکم جاری فرمائے گا۔
کبھی اچھا عمل نہ کرنے والے کی مغفرت:
حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم سے پہلی اُمتوں میں ایک شخص نے ننانوے قتل کئے تھے۔ پھر اس نے سب سے بڑے عالم کے بارے میں لوگوں سے پوچھا۔ لوگوں نے ایک راہب کی طرف اس کی راہ نمائی کی۔ وہ اس کے پاس