Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
114 - 882
دل دکھانے والا بھی آزمائش میں ہے:
	اگر کسی کے دل کو چوٹ پہنچائی ہے اس طرح کہ لوگوں کے سامنے  اسے برابھلا کہا یا اس کی پیٹھ پیچھے اسے عیب لگایا تو جس جس کو زبان یا کسی فعل سے تکلیف دی یا دل دکھا یا ان سب کو تلاش کرے اور ہر ایک سے ان کے ضائع کردہ حقوق کی معافی مانگے۔ جو لوگ فوت ہوگئے یا ایسے غائب ہوگئے کہ ان کی کچھ خبر نہیں تو ان کی حق تلفیوں کا تدارُک یہی ہے کہ کثرت سے نیکیاں کرے تاکہ قیامت کے دن وہ اس کے گناہوں کا بدلہ ہوسکیں۔ البتہ جو شخص مل جائے اور وہ خوش دلی سے اسے معاف کردے تو یہ اس گناہ کا کفارہ ہے اور اسے چاہئے کہ اس شخص کو بتادے اس نے کس قدر جرم کیا ہے۔ وضاحت کے بغیر مبہم طور پر معافی کافی نہیں ہے کیونکہ بعض اوقات جب کسی کو زیادتیوں کی کثرت کا علم ہوتا ہے تو وہ خوش دلی سے معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور یہ اذیتیں قیامت کے دن کے لئے جمع کرلی جاتی ہیں پھر ان کے بدلے میں ظالم کی نیکیاں لےلی جاتی ہیں یاپھر مظلوم کے گناہوں کا بوجھ ظالم کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔
	اگر کسی کے جملہ جرائم میں ایسے جرم بھی ہوں جن کا تعلق حقوقُ العباد سے ہے اور ان کے ذکر کرنے یا اس شخص کو بتانے سے اسے اذیت پہنچتی ہے مثلاً کسی کی لونڈی یا بیوی سے زنا کرنا یا اس کے خفیہ عیوب میں سے کسی کو زبان پر لانا۔ ان گناہوں کا ذکر کرنے سے سامنے والے کی تکلیف بڑھ جاتی ہے بلکہ بعض اوقات تو ایسے معاملات میں معافی مانگنے کا راستہ بھی بند  ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں گناہوں کا ذکر کئے بغیر معافی مانگے(1)۔اب جو ظلم وزیادتی اس کے ذمہ رہ جائے گی اسے مرنے والے اور غائب  ہو جانے والے  کے معاملے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یوں کہناکہ’’جوکہاسناہے معاف کرو‘‘اصلاً کافی نہیں کہ زناکہے سنے میں داخل نہیں اوریوں کہنا کہ’’میں نے جوتیراگناہ کیاہے معاف کردے‘‘یہ اگرایسی تعمیموں کے ساتھ کہاکہ زناکوبھی شامل ہوااوراس نے اسی عموم کے طورپر معاف کیاتومعاف ہوگیااوراگراتنے ہی گول مجمل لفظ تھے جس سے اس کا ذہن ایسی بڑی بات کی طرف نہ جاسکے ہلکی باتیں مثلاً بُرا بھلاکہناغیبت کرنایاکچھ مال دبالیناان کی طرف ذہن جائے تویہ معافی انہیں باتوں کے لئے خاص رہے گی اورقول اظہر پر زنا کو شامل نہ ہوگی لہذااسے اس سے یوں کہنا چاہئے کہ دنیامیں ایک مرددوسرے کا جس جس قسم کا گناہ کرسکتا ہے جسم یاجان یا مال یا آبرووغیرہ وغیرہ کے متعلق اُن سب میں چھوٹے سے چھوٹایابڑے سے بڑاجوکچھ بھی مجھ سے تمہارے حق میں واقع ہواسب لِوَجْہِاللہ مُعاف کردو،اوراس تعمیم کو خوب اس کے ذہن میں کردے اوراس کے بعدوہ صاف معاف کرے توامیدواثق ہے کہ اِنْ شَآءَاللہتعالیٰ معاف ہوجائے۔(فتاوٰی رضویہ مخرجہ، ۲۴/ ۳۷۲)