Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
113 - 882
 تلاش کرنے کی طاقت رکھتےہیں اور نہ ہی ان کے ورثا کو ڈھونڈسکتے ہیں۔
حق داروں سے بچنے کے لئے نیکیوں کی کثرت کرو:
	بہرحال ہر شخص پر لازم ہے کہ جس قدر ممکن ہو سکے (حق تلفیوں کا ازالہ) کرے۔ اگر بالکل عاجز آجائے تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ خوب نیکیاں کرے تاکہ قیامت کے دن حقدار کا حق ان سے ادا کیا جائے یعنی اس کی نیکیاں لےکر ان لوگوں کے پلڑے میں ڈالی جائیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کی نیکیاں بھی اسی کثرت سے ہوں جس قدر زیادہ اس کے مظالم ہیں کیونکہ اگر اس کی نیکیاں کافی نہیں ہوں گی تو حقداروں کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے یوں وہ دوسروں کے گناہوں کے سبب ہلاک ہوجائے گا۔
	حق تلفیوں سے توبہ کرنے والوں کے لئے یہی طریقہ ہے اور اس سے لازم آتا ہے کہ اگر عمر لمبی ہو تو ساری عمر نیکیوں میں گزاری جائے تاکہ عمربھر لوگوں کے جتنے حقوق ضائع کیے ہیں اس کی مقدار نیکیاں بھی ہوں مگر اس کا علم کسی کو نہیں۔ بعض اوقات موت قریب ہوتی ہے تو تنگ وقت میں نیکیوں کے لئے اتنی جلدی کرے جس قدر وہ کشادہ وقت میں برائیوں کے لئے مُسْتَعِد تھا۔
	یہ ان حقوق کا حکم تھا جو اس کے ذمہ ہیں۔ اگر مال موجود ہے اور اس کے مالک کا بھی علم ہے تو اسے لوٹانا ضروری ہے اور اگر مالک کا علم نہ ہو تو اس مال کو صدقہ کرنا لازم ہے اور اگر حلال مال حرام مال کے ساتھ مل گیا ہے تو حرام مال کی مقدار کا اندازہ کرے اور اتنی مقدار صدقہ کردے(1)جیساکہ اس کی تفصیل ”حلال وحرام کے بیان“ میں گزر چکی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:”وہ جو علماء فرماتے ہیں کہ جس کے پاس مال حرام ہو اور مالک معلوم نہ رہیں یا بےوارث مرجا ئیں تو ان کی طرف سے تَصدّق کردے اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ صدقَۂ مقبولہ ہے یا ارادۂ خود میں صرف کرنا ٹھہرے گا یا اس پر اِنْفَاقْ فِی سَبِیْلِ اللہ کا ثواب پائے گا بلکہ وجہ یہ ہے کہ جب اس میں تصرف حرام ہو اور مالک تک پہنچا نہیں سکتا ناچار اس کی نیت سے فقیر کو دے دے کہ اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ کے پاس امانت رہے اور وہ روز قیامت مالک کو پہنچادے۔“مزید فرماتے ہیں کہ عالمگیریہ میں ہے:”لَوْتَصَدَّقَ عَلٰی فَقِیْرٍ شَیْئًا مِّنَ الْمَالِ الْحَـرَامِ وَ یَـرْجُوْا الثَّوَابَ یَکْفُرُ… الخ۔اگر فقیر پر حرام مال میں سے کچھ صدقہ کیا اور ثواب کی امید رکھتاہے تو وہ کافر ہوجائے گا… الخ۔“(فتاوی رضویہ مخرجہ، ۲۱/۱۰۸ تا۱۱۰)