ان کے سر پر مارا جس سے خون کے چھینٹے آپ کے چہرے پر پڑے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں برا بھلا کہا۔ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت خالد بن ولیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کلمات سنے تو فرمایا:’’اے خالد ایسا مت کہو! اس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے! اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرے تو اسے بخش دیا جائے۔“ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور دفن کردیا گیا۔(1)
قصاص اور حدِّ قذف:
جہاں تک قِصاص اور حد قذف کا تعلق ہے تو اس میں ضروری ہے کہ صاحب حق کو اپنے اوپر مکمل اختیار دیا جائے۔ پس اگر کسی کا مال لیا ہے چاہے غصب کیا ہو یا خیانت کی ہو یاپھر کسی قسم کا دھوکا کیا ہو مثلاً کھوٹا سکہ چلا دینا، مبیع(یعنی بیچی جانے والے شے) کا عیب چھپانا، مزدور کی مزدوری میں کمی کرنا یا اسے بالکل اُجرت نہ دینا، ایسے تمام معاملات کے بارے میں نہ صرف بلوغت کے بعد کا بلکہ نابالغی کا بھی حساب لگائے کیونکہ نابالغ بچے کے مال میں جو کچھ واجب ہوتا ہے اگر اس کے ولی نے اس میں کوتاہی کی ہو تو بالغ ہونے کے بعد اس کی ادائیگی اس بچے پر لازم ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو ظالم ہے اس سے مطالبہ کیا جائے گا کیونکہ مالی حقوق میں بچہ اور بالغ برابر ہیں۔
محاسَبۂ نفس کا طریقہ:
انسان کو چاہئے کہ (فوراً توبہ کرے اور) قیامت کے دن حساب لئے جانے سے پہلے (دنیا ہی میں) زندگی کے پہلے دن سے توبہ کے دن تک ایک ایک دانے اور ایک ایک پیسے کا حساب کرے اور اپنا تفصیلی محاسبہ کرلے کہ جو شخص دنیا میں اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتا آخرت میں اسے طویل حساب کا سامنا ہوگا۔ پھر غالب گمان اور ممکن حد تک خوب غور وفکر کرنے کے بعد جو دوسروں کے حقوق حاصل ہوں ان کو لکھ لے اور جن کے حقوق غصب کیے ہیں ان کا بھی ایک ایک کرکے نام لکھ لے۔ پھر شہروں میں گھوم پھر کر انہیں تلاش کرے اور ان سے معاف کروائے یا ان کے حقوق ادا کرے۔
اس طرح توبہ کرنا ظالموں اور تاجروں پر بہت شاق ہے کیونکہ وہ نہ تو معاملہ کرنے والے تمام لوگوں کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی ،ص۹۳۲، حدیث:۲۲( ۱۶۹۵)