Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
111 - 882
جب دوسرا دن ہوا تو پھر حاضر ہوکر عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھ سے زنا سرزد ہوگیا ہے۔“ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوبارہ واپس کردیا۔ جب تیسرے دن انہوں نے ایسا کیا تو حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں حکم سنایا اور ان کے لئے ایک گڑھا کھودا گیا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے  ان کو رجم کر دیا گیا۔ اب لوگ ان کے بارے میں دو طرح کی باتیں کرنے لگے۔ ایک گروہ کہتا کہ وہ ہلاک ہوئے اور ان کو ان کے گناہوں نے گھیرلیا جبکہ دوسرا گروہ کہتا کہ ان کی توبہ سے زیادہ سچی توبہ کسی کی نہیں۔ پھر حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”لَقَدۡ تَابَ تَوۡبَةً لَوۡ قُسِّمَتۡ بَیۡنَ اُمَّةٍ لَّوَسِعَـتۡھُمۡ یعنی انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس توبہ کو امت کے درمیان تقسیم کیا جائے تو وہ سب (کی مغفرت)کے لئے کافی ہو۔“(1)
انوکھی توبہ:
	غامدیہ(قبیلَۂ غامدسے تعلق رکھنے والی ایک عورت)نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکرعرض کی:’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھ سے زنا سرزد ہوگیا ہے مجھے پاک فرما دیجئے(یعنی حد جاری فرمادیجئے)۔“حضورنبیّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں واپس بھیج دیا۔دوسرےدن انہوں نے عرض کی:”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے مجھے واپس کیوں بھیج دیا؟ شاید آپ نے مجھے بھی حضرت ماعز کی طرح لوٹانے کا ارادہ فرمایا ہے،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم! میں حاملہ ہوں۔“ارشاد فرمایا:”ابھی تم جاؤبچے کی پیدائش ہوجانے دو۔“جب بچہ پیدا ہوا تو اسے کپڑے میں لپیٹ کر حاضر ہوگئیں اور عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں نے اس بچے کو جنا ہے۔“ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جاؤ اسے دودھ پلاؤ یہاں تک کہ یہ دودھ چھوڑ کر غذا کھانے لگے۔“وہ بچے کو پھر لےکر حاضر ہوئیں اور بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔ عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس نے دودھ پینا چھوڑدیا اور کھانا کھانے لگا ہے۔“حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بچہ ایک مسلمان مرد کے حوالے کیا پھر انہیں حکم بیان کیا۔ پس ان کے سینے تک گڑھا کھودا گیا اس کے بعد لوگ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر انہیں رجم کرنے لگے (یعنی پتھر مارنے لگے تاکہ وہ مرجائیں)۔ حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک پتھر لےکر آئے اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم، کتاب الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی،ص۹۳۲، حدیث:۱۶۹۵