Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
110 - 882
قتل کی صورتیں اور ان کا کفارہ:
	جہاں تک جانوں کا تعلق ہے تو اگر قتل بطور خطا ہواہے تو اس سے توبہ کی صورت یہ ہے کہ دِیَت مستحق تک پہنچائی جائے اب یاتو وہ خود دے یا اس کے ورثا ادا کریں۔ جب تک خون بہا (یعنی دیت) مستحق تک نہ پہنچے قاتل گناہ گار رہے گا(1)۔ اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہے جس سے قصاص واجب ہوتا ہے تو قصاص سے توبہ قبول ہوگی۔ اگر (مقتول کے ورثا کو) قاتل کا علم نہ ہو تو اسے (قاتل کو) چاہئے کہ خود جاکر مقتول کے ولی کو بتادے اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کردے، اب اس کی مرضی وہ قتل کرے یا معاف کرے، اس کے بغیر قاتل اس ذمہ سے بری نہ ہوگا۔ قتل کو چھپانا جائز نہیں اور یہ شراب، زنا، چوری، ڈاکہ زنی یا  کسی ایسے عمل کی طرح نہیں ہے جس کے ارتکاب سے حد واجب ہوتی ہے کیونکہ ان گناہوں سے توبہ کے لئے خود کو رسوا کرنا اور گناہ سے  پردہ اٹھانا ضروری نہیں اور نہ ہی یہ کہ حاکم سے مطالبہ کرے کہ وہ اس سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا حق وصول کرے بلکہ اس پر لازم ہے کہ جس بات کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے پردہ رکھا اسے چھپائے اور اپنے آپ کو طرح طرح کے مجاہدات اور نفس کو تکالیف میں ڈالنے   کے ذریعے اپنے اوپر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حد قائم کرے۔
	جہاں تک حقوقُ اللہ کا معاملہ ہے تو اس میں توبہ کرنے والوں اور نادم ہونے والوں کے لئے معافی کی زیادہ امید ہے لیکن پھر بھی اگر وہ اپنا معاملہ حکمران کے پاس لے جائے کہ وہ اس پر حد قائم کرے تو بھی صحیح ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں صحیح مقبول ہوگی۔ اس کی دلیل یہ روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ماعز بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضور نبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے مجھ سے زنا سرزد ہوگیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے پاک فرمادیں(یعنی حد جاری فرمادیں)۔“ نبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو واپس بھیج دیا۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197 صفحات پر مشتمل کتاتبہارِشریعت،جلد3، حصہ17، صفحہ753پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: قتل خطا کا حکم یہ ہے کہ قاتل پر کفارہ واجب ہے اور اس کے عصبہ پر دیت واجب جو تین سال میں ادا کی جائے گی۔ قتل خطا کی دونوں صورتوں میں اس کے ذمہ قتل کا گناہ نہیں۔ یہ تو ضرور گناہ ہے کہ ایسے آلہ کے استعمال میں اس نے بےاحتیاطی برتی، شریعت کا حکم ہے کہ ایسے موقعوں پر احتیاط سے کام لینا چاہئے۔