بیان کو مقدم کرنا لازم ٹھہرا بایں طور کہ توبہ کی حقیقت، شرائط، سبب، علامت، ثَمَرہ ونتیجہ، توبہ میں رُکاوَٹ ڈالنے والی آفات اور اسے آسان کرنے والی چیزوں کی شرح کی جائے۔ ان تمام باتوں کی وضاحت درج ذیل چار ارکان سے بخوبی ہوجائے گی۔
٭…پہلا رکن: اس میں توبہ اور اس کی تعریف و حقیقت کو بیان کیا جائے گا اور اس بات کو بیان کیا جائے گا کہ توبہ فوراً واجب ہے اور تمام حالتوں میں سب لوگوں پر لازم ہے نیز جب توبہ صحیح واقع ہو تو مقبول ہے۔
٭…دوسرا رکن: اس میں ان باتوں کا بیان ہے جن سے توبہ کی جاتی ہے اور وہ گناہ ہیں، گناہِ صغیرہ وکبیرہ کے علاوہ اس رکن میں یہ بھی بیان کیا جائے گا کہ کس گناہ کا تعلق بندوں سے ہے اور کس کا حقوقُ اللہ سے ہے نیز نیکیوں اور برائیوں پر حاصل ہونے والے بلنددَرَجات اوربُرے ٹھکانوں کا ذِکر کیا جائے گا اور وہ اَسباب بیان کیے جائیں گے جن سے صغیرہ یعنی چھوٹے گناہ کبیرہ بن جاتے ہیں۔
٭…تیسرا رکن: اس میں توبہ کی شرائط، اس پر استقامت پانے اور گزشتہ مظالِم (یعنی بندوں کی حق تلفیوں) کی تلافی کا طریقہ ذکر کیا جائے گا نیز گناہ معاف ہونے کی کیفیت اور توبہ پر استقامت پانے والوں کی اَقسام کا ذکر کیا جائے گا۔
٭…چوتھا رکن: اس میں توبہ پر ابھارنے والا سبب اور گناہوں پر ڈٹ جانے کا علاج ذکر کیا جائے گا۔
بیان کردہ چار ارکا ن سے مقصود پورا ہو جا ئے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔
پہلا رکن: توبہ کابیان(اس میں پانچ فصلیں ہیں)
پہلی فصل: توبہ کی حقیقت اور اس کی تعریف
جان لیجئے کہ توبہ تین مرتّب اُمور کے مجموعے کو کہا جاتا ہے:(۱)علم (۲)حال اور (۳)فعل۔ ان میں پہلا دوسرے کا اور دوسرا تیسرے کا لازمی سبب ہے کیونکہ زمین وآسمان میں باری تعالیٰ کی جاری عادت کا یہی تقاضا ہے۔
علم اور توبہ:
علم اس بات کی پہچان کرواتا ہے کہ گناہوں کا نقصان بہت بڑا ہے اور گناہ بندے اور اس کے محبوب کے درمِیان حِجا ب ورُکاوَٹ ہے۔ جب بندے کو دل پر غالِب یقین کے ذریعے اس بات کی مَعْرِفَت حاصل