بندوں کی حق تلفیوں سے توبہ کا طریقہ:
جہاں تک حقوقُ العباد کاتعلق ہے تو ان کے ضائع کرنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بھی نا فرمانی اور حقُ اللہ پر جرأت ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بندوں پر ظلم کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ جن گناہوں کا تعلق حقوقُ اللہ سے ہے ان کا تدارُک ندامت وافسوس اور مستقبل میں ان سے باز رہنے سے ہوتا ہے نیز وہ نیکیاں اختیار کی جائیں جو ان گناہوں کے مقابل ہیں۔
بندوں کی حق تلفیوں کے کفارے:
اگر لوگوں کو تکالیف دیتا تھا تو اب ان پر احسان کرے، لوگوں کے مال غصب کرنے کا کفارہ یوں ادا کرے کہ حلال مال سے صدقہ کرے، غیبت وعیب جوئی کرکے جن کی عزت پر حملہ کیا اگر وہ دین دار ہوں تو ان کی تعریف کرے اور ان کی اور ان کے دوست احباب کی جو اچھی باتیں معلوم ہوں انہیں بیان کرے(1)، لوگوں کو قتل کرنے کے کفارہ میں غلاموں کو آزاد کرے کہ یہ بھی زندہ کرنا ہے کیونکہ غلام کی پہچان مالک سے ہوتی ہے تو آزاد کرنا گویا وجود بخشنا ہے اور انسان اس سے زیادہ پر قدرت نہیں رکھتا ،لہٰذا کسی کو ختم کردینے کا مقابل (یعنی کفارہ) وجود بخشنا (یعنی غلام آزاد کرنا) ہی ہے۔
گناہ کے کفارے اور اسے مٹانے کے سلسلے میں ہم نے اس کے مخالف اعمال کی جو چند مثلیں بیان کیں اس سے تمہیں جان لینا چاہئے کہ شریعت میں اس کا ثبوت موجود ہے مثلاً قتل کا کفارہ غلام آزاد کرنا رکھا گیا ہے۔ لیکن ان اعمال کو اپنانے کے باوجود انسان اس وقت تک نجات نہیں پاسکتا اور نہ ہی یہ عمل اسے کفایت کرسکتا ہے جب تک بندوں کے حقوق ادا نہ کرے اور حقوقُ العباد کا تعلق عموماً جان، مال، عزت اور دل سے ہوتا ہے یعنی کسی بھی طرح سے پہنچنے والی تکلیف کا تعلق حقوقُ العباد سے ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احناف کے نزدیک(حقوقُ العبادسے چھٹکارے کی صورت یہ ہے):جس کامال دبایاہے فرض ہے کہ اتنامال اسے دے،وہ نہ رہا ہو اس کے وارث کو دے،وہ نہ ہوں فقیرکو دے۔بے اس کے سبکدوش(یعنی اس کے بغیربرئ الذمہ) نہیں ہوسکتا۔اورجسے علاوہ مال کچھ ایذادی ہویابُراکہاہواس سے معافی مانگے یہاں تک کہ وہ معاف کردے جس طرح ممکن ہو معافی لے۔وہ نہ رہاہواورتھا مسلمان تواس کے لئے صدقہ وتلاوت ونوافل کا ثواب پہنچاتارہے،اورکافرتھاتوکوئی علاج نہیں سوااس کے کہ اپنے رب(عَزَّ وَجَلَّ)کی طرف رجوع اورتوبہ واستغفارکرتارہے وہ مالک وقادرہے۔(فتاوٰی رضویہ مخرجہ،۲۴/ ۳۷۹)