اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی حدیث پاک میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اِذَا کَـثُرَتۡ ذُنُوۡبُ الۡعَبۡدِ وَلَمۡ تَکُنۡ لَّـہٗ اَعۡمَالٌ تُکَفِّرُھَا اَدۡخَلَ اللہ عَلَیۡہِ الۡھُمُوۡمَ فَتَکُوۡنُ کَفَّارَةً لِّذُنُوۡبِہٖ یعنی جب بندے کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس کے پاس ایسے اعمال نہیں ہوتے جو ان گناہوں کا کفارہ بن سکیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے غموں میں مبتلا فرمادیتا ہے جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ (1)
کہا جاتا ہے کہ گناہوں کی سیاہی چھاجانے اور ان کی فکروں میں اُلجھنے کے سبب انسان دل کے غم کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتا اور دل کا شعور حساب اور اس کی دہشت پر مطلع ہونے سے ہوتا ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
اگر کہا جائے کہ انسان کا غم عام طور پر مال، اولاد اور جاہ ومرتبہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ تو گناہ ہے کفارہ کیونکر بن سکتا ہے؟
جواب: جان لو! ان کی محبت نافرمانی (کی جڑ) ہے اور ان سے محرومی گناہوں کا کفارہ ہے اگر ان سے (خلاف شرع) فائدہ حاصل کیا جائے تو نافرمانی واضح ہوجاتی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام قیدخانے میں حضرت سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ نےفرمایا:”آپ نے ان بزرگ (یعنی حضرت یعقوبعَلَیْہِ السَّلَام) کو کس حالت میں چھوڑا؟“حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے جواب دیا:”انہیں آپ کا اس قدر غم ہے کہ جتنا سو عورتوں کو اپنے بچے فوت ہوجانے پر ہوتا ہے۔“آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے پوچھا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں ان کے لئے کیا اجر ہے؟“ جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:”100 شہیدوں کا ثواب ہے۔“
معلوم ہوا کہ غم بھی حقوقُ اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی کا کفارہ بنتے ہیں۔ یہ ان نافرمانیوں کا حکم ہے جو بندے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسندامام احمد بن حنبل، مسند سیدة عائشة،۹/ ۵۰۰، حدیث:۲۵۲۹۱ ،بتغیرقلیل