Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
107 - 882
قرآن پاک کو بہت زیادہ چومے اورقرآن پاک کاایک نسخہ اپنے ہاتھ سے لکھ کر وقف کردے، شراب نوشی کا کفارہ یوں ادا کرے کہ حلال مشروب جو شراب سے زیادہ عمدہ اور اس کا پسندیدہ ہو صدقہ کرے۔ تمام گناہوں کا شمار ناممکن ہے۔
گناہ کے مخالف نیکی سے گناہ مٹاؤ:
	بہرحال مقصود گناہوں کے مخالف راستے پر چلنا ہے کیونکہ بیماری کا علاج اس کی ضد سے کیا جاتا ہے۔ کسی گناہ کی وجہ سے دل پر چھانے والی تاریکی اس گناہ کے مخالف  نیکی کے سبب پیدا ہونے والے نور ہی سے ختم ہوتی ہے۔ ہر کام کا متضاد ہی اس کے مناسب ہوتا ہے ،لہٰذا چاہئے کہ ہر گناہ کو اس کی متضاد نیکی کے ذریعے مٹایا جائے کہ سفیدی سیاہی کے ذریعے زائل ہوتی ہے گرمی یا ٹھنڈک کے ذریعے نہیں۔ گناہ مٹانے کے معاملے میں یہ تحقیق اور مرحلہ وار عمل نہایت مناسب ہے۔ اس میں گناہوں سے دور ہونے کی امید زیادہ ہے نیز ایک ہی قسم کی عبادت میں مصروفیت کے مقابلے میں یہ طریقہ زیادہ مؤثر اور بہتر ہے اگرچہ وہ بھی گناہوں کے مٹانے میں مؤثر ہے۔
	یہ ان حقوق کا بیان ہوا جو بندے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ہیں اور یہ بیان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی چیز کا کفارہ اس کی ضد ہوتی ہے۔
رنج والم بھی گناہوں کا کفارہ ہیں:
	دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے اور اس کے پیچھے چلنے کا اثر یہ ہے کہ دل اس پر خوشی محسوس کرتا اور اس کا شوق رکھتا ہے تو ضرور مسلمان کو پہنچنے والی ہر وہ تکلیف جس کے سبب اس کا دل دنیا سے اچاٹ ہوجائے وہ اس کے لئے کفارہ ہوگا کیونکہ دل رنج والم کے سبب دنیا سے اچاٹ ہوتا ہے۔حضورنبیّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے:” بعض گناہوں کا کفارہ رنج وغم ہی ہے۔“(1)
	ایک روایت آخرمیں ہے:(بعض گناہوں کا کفارہ) روزی کی تلاش میں ملنے والا غم ہے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط،۱/ ۴۲، حدیث:۱۰۲،بتغیرقلیل
2…المعجم الاوسط ،۱/ ۴۲، حدیث:۱۰۲ ،بتغیرقلیل