Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
106 - 882
 اس کے کان، آنکھ، زبان، پیٹ، ہاتھ، پاؤں، شرمگاہ اور دوسرے  تمام اعضاء سے کون کون سے گناہ سرزد ہوئے۔ پھر تمام دنوں اور ہرہر ساعت پر غور کرے اور اپنے نفس کے سامنے ان گناہوں کا سارا دفتر کھول کر رکھ دے یہاں تک کہ وہ صغیرہ وکبیرہ تمام گناہوں پر مُطَّلَع ہوجائے۔
حقوقُ اللہ میں کوتاہی سے توبہ کا طریقہ:
	اب غور کرے کہ کن گناہوں کا تعلق حقوقُ اللہ سے ہے یعنی اس میں بندوں پر کوئی ظُلْم وزیادتی تو نہیں مثلاًغیرمَحرم عورت کی طرف نَظَر کرنا،حالَتِ جنابت میں مسجدمیں بیٹھنا،بےوضوقرآنِ پاک چھونا، گمراہ کُن بات کا اعتقاد رکھنا، شراب نوشی کرنا، فِسْقِیہ اشعار سننا اور ان کے علاوہ گناہ جن میں بندوں کے حقوق ضائع نہیں ہوتے۔
	ان گناہوں سے توبہ کا ذریعہ ان پر ندامت اور حسرت (اور انہیں چھوڑنے اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا) ہے مزید یہ کہ ان کے کبیرہ ہونے اور ان میں ڈوبا رہنے کی مدت کا حساب لگائے پھر ہر گناہ کے بدلے نیکی کرے اور ان گناہوں کے برابر نیکیاں بجا لائے کہ سرکارِدوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس ارشاد گرامی کی تعمیل  ہو:”اِتَّقِ اللہ حَیۡثُ مَاکُنۡتَ وَاَ تْبِعِ السَّیِّئَةَ الۡحَسَنَةَ تَمۡحُھَا یعنی تم جہاں کہیں ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو اور گناہ کے بعد نیکی بجالاؤ کہ نیکی اس گناہ کو مٹادے گی۔“(1)
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ (پ۱۲،ھود:۱۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔
گناہوں کے کفارے:
	فِسْقِیَہ اشعار سننے کا کفارہ قرآنِ پاک کی تلاوت سن کر اور مجالِسِ ذکر میں شرکت کے ذریعے ادا کرے، مسجد میں حالَتِ جَنابت میں بیٹھنے کے کفارے میں مسجد میں اعتکاف کرے اور خوب عبادت میں مشغول رہے، بےوضو قرآن پاک چھونے کے کفارے میں قرآن پاک کی تعظیم کرے اور کثرت سے تلاوت کرے نیز 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… سن الترمذی ، کتاب البروالصلة ، باب ماجاء فی معاشرة الفاس،۳/ ۳۹۷، حدیث:۱۹۹۶۔