ادا نہیں کی مثلاً شافعی مسلک سے تعلق ہے اور زکوٰۃ آٹھوں مصارف کو ادا نہیں کی(بلکہ کسی ایک ہی کو ساری دےدی) یا جس مال پر زکوٰۃ واجب ہوئی تھی اس کے بدلے کوئی دوسرا مال دےدیا تو تمام زکوٰۃ دوبارہ دے کیونکہ یہ زکوٰۃ بالکل ادا نہیں ہوئی(1)۔ زکوٰۃ کا حساب اور اس کی مَعْرِفَت ایک طویل مُعامَلہ ہے اور اس کا حساب معلوم کرنے میں مکمل غور وفکر چاہئے۔ بہتر یہ ہے کہ اس معاملے میں علما سے رجوع کرے اور ان سے ادائیگی کا طریقہ پوچھے۔
حج کے متعلق مسئلہ:
حج کے بارے میں بھی غور کرے اگر اسے بعض سالوں میں حج کی استطاعت تھی لیکن (اپنی کوتاہی کی وجہ سے) نہ گیا اور اب مفلس ہوگیا تو بھی حج کے لئے نکلنا اس پر لازم ہے۔ اگر مفلسی کی وجہ سے وہ حج کرنے پر قادر نہ ہو تو اس پر زادِراہ کے لئے حلال مال کمانا لازم ہے۔ اگر مال کمانے کی قدرت نہ ہو اور نہ ہی اس کے پاس مال ہو تو لوگوں سے زکوٰۃ اور دیگر صدقات کا اپنے لئے سوال کرے تاکہ اس سے حج کرسکے(2) کیونکہ اگر وہ حج کرنے سے پہلے مرگیا تو گناہ گار مرا۔ حضور نبیّ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے:” جو شخص (حج فرض ہونے کے بعد بغیر کسی عذر کے) بغیر حج کئے مرا تو چاہے وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر۔“(3)
حج کی استطاعت وقدرت حاصل ہونے کے بعد کسی عارضی رُکاوٹ کی بنا پر حج کی فرضیت اس سے ساقط نہ ہوگی۔ عبادات میں ہونے والی کوتاہیوں کی چھان بین اور ان کے تدارُک کا یہ طریقہ ہے۔
گناہوں کا مُحاسَبہ کرنے کا طریقہ:
جہاں تک گناہوں کا معاملہ ہے تو اس پر لازم ہے کہ اپنے وقْتِ بُلُوغ سے لےکر اب تک غور کرے کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احناف کے نزدیک: دونوں صورتوں میں زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(اتحاف السادة المتقین، ۱۰/۶۹۹ مفھومًا)
2…احناف کے نزدیک:(بندے کے پاس)مال موجودتھااورحج نہ کیاپھروہ مال تلف(ضائع)ہوگیا،توقرض لے کرجائے اگرچہ جانتا ہوکہ یہ قرض ادانہ ہوگامگرنیت یہ ہوکہ اللہتعالیٰ قدرت دے گا تو اداکردوں گا۔پھراگرادانہ ہوسکااورنیت اداکی تھی توامیدہے کہ مولیٰ عَزَّ وَجَلَّاس پر مؤاخذہ نہ فرمائے۔(بہارشریعت،حصہ۶، ۱/ ۱۰۳۶)
3…المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب المناسک ، باب فی الرجل یموت ولم یحج ،۴/ ۳۹۲،حدیث:۱،بتغیرقلیل