روزے کے متعلق مسئلہ:
روزے کا جہاں تک معاملہ ہے اگر سفر میں چھوڑا اور اسے قضا بھی نہ کیا یا جان بوجھ کر توڑدیا یا رات کو نیت کرنا بھول گیا(1)اور بعد میں قضا نہ کیا تو ان تمام روزوں کا خوب غور وفکر سے اندازہ لگا کر ان کی قضا کرے۔
زکوٰۃ کے متعلق مسئلہ:
جہاں تک زکوٰۃ کا تعلق ہے تو تمام مال کا حساب لگائے اور جس دن سے اس مال کا مالک ہوا ہے اس دن سے سالوں کا شمار کرے نہ کہ بُلُوغت سے کیونکہ زکوٰۃ بچے کے مال پر بھی واجب ہے(2)۔ اب جو غالب گمان ہو اس کے مطابق اتنی زکوٰۃ ادا کرے جو اس کے ذمہ ہے۔ اگر زکوٰۃ ادا تو کی ہے مگر اپنے مذہب کے مطابق
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احناف کے نزدیک: ماہِ رمضان، نذرِ معیّن اور نفل روزوں کی نیت رات کے وقت ضروری نہیں بلکہ اگر غروب آفتاب سے لےکر اگلے دن ضحوہ کبریٰ سے پہلے کسی وقت بھی نیت کرلی تو روزہ ہوگیا۔ البتہ رات ہی کو نیت کرلینا مستحب ہے۔ ان کے علاوہ باقی روزوں میں رات میں نیت کرنا ضروری ہے۔ صَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ادائے روزۂ رمضان اور نذرِمعین اور نفل کے روزوں کے لیے نیّت کا وقت غروب آفتاب سے ضحوۂ کبریٰ تک ہے، اس وقت میں جب نیّت کرلے، یہ روزے ہوجائیں گے۔“ کچھ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں:”ضحوۂ کبریٰ نیّت کا وقت نہیں، بلکہ اس سے پیشتر نیّت ہوجانا ضروری ہےاور اگر خاص اس وقت یعنی جس وقت آفتاب خطِ نصف النہار شرعی پر پہنچ گیا، نیّت کی تو روزہ نہ ہوا۔“ اگلے صفحے پر فرماتے ہیں:”اگرچہ ان تین قسم کے روزوں کی نیّت دن میں بھی ہوسکتی ہے، مگر رات میں نیّت کرلینا مستحب ہے۔“ کچھ صفحات بعد فرماتے ہیں:”ادائے رمضان اور نذر معیّن اور نفل کے علاوہ باقی روزے، مثلاً قضائے رمضان اور نذر غیر معیّن اور نفل کی قضا (یعنی نفلی روزہ رکھ کر توڑدیا تھا اس کی قضا) اور نذر معیّن کی قضا اور کفّارہ کا روزہ اور حرم میں شکار کرنے کی وجہ سے جو روزہ واجب ہوا وہ اور حج میں وقت سے پہلے سر منڈانے کا روزہ اور تمتع کا روزہ، ان سب میں عین صبح چمکتے وقت یا رات میں نیّت کرنا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ جو روزہ رکھنا ہے، خاص اس معیّن کی نیّت کرے اور اُن روزوں کی نیّت اگر دن میں کی تو نفل ہوئے پھر بھی ان کا پورا کرنا ضرور ہے توڑے گا تو قضا واجب ہوگی۔ اگرچہ یہ اس کے علم میں ہو کہ جو روزہ رکھنا چاہتا ہے یہ وہ نہیں ہوگا بلکہ نفل ہوگا۔“(بہارشریعت، حصہ۵، ۱/ ۹۶۷تا۹۷۱)
2…احناف کے نزدیک: نابالغ پر زکاة واجب نہیں۔(بہارشریعت، حصہ۵، ۱/۸۷۵)
نوٹ:زکوٰةسےمتعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبة المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت،جلد1،حصہ 5،صفحہ866تا934کا مطالعہ کیجئے!