Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
103 - 882
نَدامَت کا نتیجہ اور قصد:
٭…قَصْد:توبہ کا ایک رُکن قصد وعزم ہے۔ یہ ندامت کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے اور اس سے مراد گناہ کے  تدارک کا ارادہ کرنا ہے۔
قصد اور اس کے متعلقات:
	قصد کا تعلق حال، ماضی اور مستقل تینوں زمانوں سے ہے۔ حال سے یوں کہ یہ ہر وہ ممنوع کام چھوڑنے پر ابھارتا ہے جس میں انسان مُلَوَّث ہو اور جو کچھ انسان پر فرض ہے اس کی ادائیگی پر ابھارتا ہے، ماضی سے اس کا تعلق یوں ہے کہ گزری ہوئی کوتاہیوں کے تدارُک پر اُبھارتا ہے اور مستقبل سے اس کا تعلق یوں ہے کہ تادمِ آخر نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے پر اُبھارتا ہے۔
قصد کے صحیح ہونے کی شرائط:
	قصد کا جو تعلُّق ماضی سے ہے اس کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ انسان احتلام یا عُمْر کے ذریعے جس دن بالغ ہوا اس دن سے اپنی عُمْر کے ہرہر سال، مہینہ، دن بلکہ ہرہر سانس پر غور کرے اور دیکھے کہ کتنے احکامات کو پیٹھ پیچھے ڈالا اور کتنے گناہوں کا ارتکاب کیا۔
عبادات میں ہونے والی کوتاہیوں کا طریقۂ تدارُک
نماز کے متعلق مسئلہ:
	اگر کوئی نماز چھوڑی ہو یا ناپاک کپڑوں میں ادا کی ہو یا درست نیت نہ کرنے کی وجہ سے نماز درست ادا نہ کی ہو تو ایسی تمام نمازوں کی قضا کرے۔ اگر فوت شدہ نمازوں کی تعداد میں شک ہو تو یوم بلوغ سے حساب لگائے اور جس قدر نمازوں کی ادائیگی کا یقین ہو ان کو چھوڑ کر باقی نمازوں کی قضا کرے اور اس سلسلے میں غالب گمان پر عمل کرے اور خوب غور وفکر اور تحری سے کام لے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قضا نمازیں ادا کرنے کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے شیخ طریقت، امیراہلسنّت بانِیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطّاؔرقادری رضویمَدَّظِلُّہٗکے رسالے ”قضا نمازوں کا طریقہ (حنفی)“  کا مطالعہ کیجئے!