Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
102 - 882
میں اس کی توبہ کی قبولیت کی عرض کی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ارشادفرمایا:مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! اگر زمین وآسمان والے سب  کے سب اس کی سفارش کریں تو بھی میں اس کی مغفرت نہ کروں گا جب تک اس کے دل میں توبہ کردہ  گناہ کی حلاوت  موجود ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	اگر تم کہو کہ گناہ تو ایسے اعمال ہیں جو طبیعت کو بہت مرغوب ہوتے ہیں بھلا ان کی کڑواہٹ کیونکر دل میں پائی جائے گی؟
	اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص زہرملا شہد کھا لے اور شہد کی مٹھاس کی وجہ سے زہر کا ذائقہ محسوس نہ کرے، پھر وہ شخص بیمار پڑ جائے، اس کا مرض اور درد طوالت پکڑ جائے، اس کے بال بکھر جائیں اور اس کے اعضاء پر فالج گر جائے، اس حالت میں اگر اس کے پاس اسی کی مثل زہرملا شہد لایا جائے تو بتایئے اس کا نفس شہد سے متنفر ہوگا یا نہیں چاہے وہ کتنا ہی بھوکا اور میٹھے کا حریص ہو؟ اگر تم کہو:”نہیں۔“ تو یہ مُشاہَدہ اور تَجْرِبَہ کا اِنکار ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بعض اوقات بندہ زہر کے شُبہ کی وجہ سے زہر سے پاک شہد سے بھی نفرت کرنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ توبہ کرنے والا اسی شخص کی طرح گناہ کی کڑواہٹ محسوس کرتا ہے اور اس بات کی وجہ یہ جان لینا ہے کہ ہر گناہ کا ذائقہ اس زہرملے شہد کی طرح میٹھا ہے جبکہ اس کا انجام زہر کے عمل کا سا ہے۔
	توبہ اس وقت تک صحیح اور سچی نہیں ہوتی جب تک ایسا ایمان نہ ہو(کہ گناہ کی کڑواہٹ دل میں محسوس ہو) اور چونکہ ایسا ایمان بہت کم پایا جاتا ہے اسی لئے سچی توبہ بھی کم ہوتی ہے اور توبہ کرنے والے بھی اور تمہیں بس اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کو بھلادینے والے، گناہوں کو ہلکا خیال کرنے والے اور گناہوں میں ڈوبے ہوئے لوگ ہی نظر آتے ہیں۔ یہ تکمیل ندامت کی شرط ہے اور اس پر موت تک قائم رہنا ضروری ہے اور چاہئے کہ یہ کڑواہٹ تمام گناہوں میں محسوس ہو اگرچہ کبھی ان کا ارتکاب نہ کیا ہو جیساکہ شہد میں ملا ہوا زہر کھانے والا ٹھنڈے پانی سے بھی نفرت کرتا ہے جبکہ اسے یہ معلوم ہو کہ اس میں بھی زہر ہے کیونکہ اسے شہد سے تکلیف نہیں پہنچتی بلکہ اس میں جو زہر تھا اس سے پہنچتی ہے۔ اسی طرح جو آدمی چوری اور زنا سے توبہ کرتا ہے اسے چوری اور زنا سے ضرر نہیں پہنچتا بلکہ اسے یہ بات نقصان دیتی ہے کہ یہ کام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکم کی خلاف ورزی ہیں اور ہر گناہ کا یہی معاملہ ہے۔