درد جتنا زیادہ امید بھی اتنی زیادہ:
جس آدمی کو اس بات کا علم ہوجائے کہ عنقریب اس کی اولاد یا کسی عزیز رشتہ دار پر کوئی مصیبت آنے والی ہے تو وہ پریشان ہوجاتا ہے اور رونا دھونا مچادیتا ہے۔ بھلا اپنے نفس سے بڑھ کر کون رشتہ دار پیارا ہوتا ہے اور جہنم سے زیادہ سخت کونسی مصیبت ہوسکتی ہے اور گناہوں کی نسبت کونسی چیز عذاب کا زیادہ سبب بن سکتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ سچا خبر دینے والا کون ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی ڈاکٹر کسی شخص کو خبر دے کہ اس کا بیمار بیٹا اس بیماری سے صحت یاب نہ ہوگا اور عنقریب مرجائے گا تو وہ غمزدہ ہوجاتا ہے حالانکہ اس کا بیٹا اس کے لئے اپنے نفس سے زیادہ عزیز نہیں اور نہ ہی ڈاکٹر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ جاننے والا اور سچا ہے اور نہ موت جہنم سے زیادہ سخت ہے اور نہ ہی مرض کی دلالت موت پر اس بات سے زیادہ یقینی ہے کہ گناہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی اور جہنم میں داخلے کا سبب ہیں۔ پس نَدامَت کا درد جتنا زیادہ ہوگا اس کے سبب گناہوں کے مٹنے کی امید بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
سچی ندامت کی علامات:
٭…ندامت کے صحیح ہونے کی علامت دل کا نرم ہونا اور آنسوؤں کا کثرت سے بہنا ہے۔ حضور نبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مبارک فرمان ہے:”جَالِسُوۡا التَّوَّابِیۡنَ فَاِنَّھُمۡ اَرَقُّ اَفۡئِدَة یعنی خوب توبہ کرنے والوں کے پاس بیٹھا کرو کیونکہ ان کے دل زیادہ نرم ہوتے ہیں۔“(1)
٭…ندامت کی ایک پہچان یہ ہے کہ بندے کے دل میں گناہوں کی حلاوت کے بجائے ان کی کڑواہٹ قرار پکڑ جائے اور گناہ کی طرف میلان کو ناپسند کرے اور رغبت کو نفرت میں بدل دے۔
گناہ کی حلاوت کا وبال:
اسرائیلی رِوایات میں ہے کہ ایک بندے نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور عرصہ دراز تک عبادت کرتا رہا مگر اسے اپنی توبہ کی قبولیت کے آثار نظر نہ آئے۔ اس وقت کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب التوبة،۳/ ۴۱۶، حدیث:۱۴۴، قول عمر۔