(۱)گناہ سے بچنا (۲)(اگر کبھی سرزد ہوجائے تو)گناہ کو چھپانا۔
جس طرح گناہوں کی وجہ سے علما کے لئے سزا زیادہ ہے اسی طرح ان کی نیکیوں کا ثواب بھی زیادہ ہوتا ہے جب ان کی اتباع کی جائے۔ پس عالم جب زیب وزینت اور دنیا کی طرف میلان چھوڑدے اور دنیا کے مال میں سے تھوڑے پر قناعت کرے، حسبِ ضرورت رزق اور پُرانے کپڑوں پر صبر کرے حتّٰی کہ اس کی اتباع کی جائے اور علما وعوام دونوں اس کی پیروی کرنے لگیں تو اسے ان پیروی کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا اور اگر وہ زیب و زینت کی طرف مائل ہوگا تو اس سے نچلے درجہ کے لوگ(یعنی عام انسان) چونکہ اس سے مشابہت کی طرف مائل ہوتے ہیں اور ان کے لئے زیب وزینت اختیار کرنا حکمرانوں کی چاپلوسی اور حرام مال جمع کیے بغیر ممکن نہیں تو گویا یہی عالم ان تمام امور کا سبب ہوگا۔ معلوم ہوا کہ عُلَما کی حَرکات کے آثار نفع ونُقصان دونوں صورتوں میں زیادہ ہوتے ہیں۔
جن اعمال سے توبہ کرنی ضروری ہے ان کے متعلق اس قدر تفصیل کافی ہے۔
تیسرا رکن: توبہ کی شرائط اور توبہ کرنے والوں کا بیان
(اس میں تین فصلیں ہیں)
پہلی فصل: توبہ کی شرائط، اس کی تکمیل اور
اس پر قائم رہنے کا بیان
ہم بیان کر چکے ہیں کہ توبہ ندامت کا نام ہے جس کا نتیجہ عزم اور قصد ہے اور یہ ندامت اس بات کے علم کا نتیجہ ہے کہ گناہ بندے اور محبوب کے درمیان رکاوٹ ہیں۔ علم، ندامت اور عزم وقصد ان میں سے ہرایک مکمل ہے اور اسے دوام حاصل ہے اور ان کی تکمیل کی کچھ علامات اور ان کے دوام کے لئے کچھ شرائط ہیں جن کی تفصیل بیان کرنا ضروری ہے۔
٭…علم:جہاں تک علم کا تعلق ہے تو یہ توبہ کا سبب ہے۔ اس کی تفصیل عنقریب آئے گی۔
٭…نَدامَت: اس سے مراد دل کا درد ہے جو محبوب کے کھو جانے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کی علامت حسرت وغم کا طویل ہونا، آنسوؤں کا بہنا، آہ وبکا اور فکر کا زیادہ ہونا ہے۔