باپ توڑنے کے بعد جو ڑے اور گرانے کے بعد تعمیر کرے تو اولاد کو بھی چاہئے کہ نفی واثبات دونو ں میں اس کی اتباع کرے یعنی گناہ سرزد ہوجانے کے بعد توبہ کرلے۔
خیر وشرکی تین صورتیں:
حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے تو اَزرؤے حکمت لغْزِش صادر ہوئی پھر بھی اس پر نَدامت کا اظہار فرمایا تو جو شخص بتقاضائے بشریت گناہ میں جاپڑے لیکن توبہ نہ کرے تو وہ خطاکار ہے کیونکہ صرف خیر وبھلائی مُقَرَّب فَرِشتوں کی خُصُوصیت ہے اور صرف شر وبُرائی میں پڑے رہنا تلا فی نہ کرنا شیاطین کی خصلت ہے جبکہ شر وبرائی کے ارتکاب کے بعد خیر وبھلائی کی طرف رجو ع کرنا انسان کی صفت ہے۔ معلوم ہوا کہ جس سے صرف خیر وبھلائی ظاہر ہو وہ ربُّ العزت کا مقرب فرشتہ ہے، جس سے محض شر وبرائی صادر ہو وہ شیطان ہے اور جو شر وبرائی ہوجانے کے بعد خیر وبھلائی کی طرف رجوع کرکے اس کی تلافی کرے وہ انسان ہے کیونکہ انسان کے خمیر میں دونو ں چیزیں رکھی گئی ہیں۔
اب انسان خود دیکھ لے کہ اس کا نسب وتعلق کس سے ہے فرشتے سے یا حضرت سیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَام سے یا شیطان سے؟ توبہ کرنے والا انسانیت کی حد اپناکر اس بات پر دلیل قائم کرتا ہے کہ اس کا نسب وتعلق حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ ہے جبکہ گناہوں پر ڈٹ جانے والا اپنی ذات پر شیطان سے تعلق کی مُہْر ثَبْت کرلیتا ہے۔ صرف خیر وبھلائی کرکے فرشتوں سے اپنے تعلق ونسب کو ثابت کرنا ممکن نہیں کیونکہ انسانی خمیر میں خیر کے ساتھ شر بڑی مضبوطی سے ملا ہوا ہے اور اسے دو میں سے کوئی ایک آگ ہی الگ کرسکتی ہے ندامت کی آگ یاپھر جَہَنَّم کی آگ، لہٰذاشیطانی خَباثتوں سے انسانی جو ہر کو الگ کر نے کے لئے آگ سے جلانا ضروری ہے۔
اے بندے! ابھی تیرے پاس ہلکی آگ(ندامت) اور ہلکی خرابی کی طرف جلدی کا اختیار ہے اسے استعمال کر اس سے پہلے کہ اختیار کی بساط لپیٹ دی جائے اور تجھے بےاختیار والے گھر جنَّت یا جَہَنَّم کی طرف لے جایا جائے۔
توبہ کے ارکان:
جب دین میں ”توبہ“ کا مقام اتنابڑا ہے تو چوتھی قسم مُنۡجِیَات (نجات دینے والے اُمور) میں توبہ کے