پاتا۔ لہٰذا ہم حرام میں مبتلا کردینے والے امور سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں۔ بےکسوں کے مددگار، شفیع روزِشمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےاس فرما ن میں اسی جانب اشارہ ہے:”مَنْ حَامَ حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ اَنْ یَّقَعَ فِیْہ یعنی جوچراگاہ کے گرد پھرےگاتو قریب ہے کہ وہ اس میں داخل بھی ہو جا ئے۔“(1)
پانچویں فصل: دل کی طرف جانے والے شیطان کے داخلی
راستوں کی تفصیل
جان لو کہ دل کی مثال قلعے کی سی ہے اور شیطان اس دشمن کی طرح ہے جو قلعے میں دا خل ہونا چاہتا ہے تاکہ اس کا مالک بن کر اس پر قبضہ کرلے اور دشمن سے قلعے کی حفاظت اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس کے دروازوں، داخلی راستوں اور کمزور مقامات کی نگرانی کی جائے اور جو اس کے دروازوں سے واقف نہ ہو وہ اس کی حفاظت نہیں کرسکتا۔ شیطان کے وسوسوں سے دل کی حفاظت کرنا واجب ہے اور یہ ہر مکلَّف پر فرض عین ہے اور جو عمل ایسا ہو کہ اُسی کے ذریعے واجب تک پہنچنا ممکن ہو تو وہ عمل بھی واجب ہوتا ہے اور شیطان کو دور کرنا اسی طرح ممکن ہے کہ اس کے داخلی راستوں کی پہچان حاصل ہو،لہٰذا اس کے داخلی راستوں کی معرفت حاصل کرنا بھی واجب ہوا۔ شیطان کے داخلی راستے اور دروازےبندوں کی صفات ہیں اور وہ کثیر ہیں، ہم راستوں کی مانند اُن بڑے دروازوں کی جانب اشارہ کریں گے جو شیطانی لشکروں کی کثرت کے باوجود تنگ نہیں پڑتے۔
شیطان کا کھلونا:
غصہ اور شہوت: شیطان کے بڑے دروازوں میں سےغصہ اور شہوت بھی ہیں۔ غصے کے سبب عقل میں فساد پیدا ہوجاتا ہے اور جب عقل کا لشکر کمزور ہوجاتاہے تو شیطا ن کا لشکر اس میں گھس آتا ہے اور جب انسان کو غصہ آتا ہے تو شیطان اس کے ساتھ ایسے کھیلتا ہےجیسے بچہ گیند سےکھیلتا ہے۔
سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور شیطان کا مکالمہ:
منقول ہے کہ ابلیس حضرت سیِّدُنا موسٰیکَلِیْمُاللہعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام سے ملا اور کہنے لگا:”اے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الايمان،باب فضل من استبرألدينه،۱/ ۳۳،حديث:۵۲بتغیرقلیل