جب لڑکی را ہب کے پاس علاج کے لئے موجود تھی تو شیطان اس کے پاس آیااور اس کے دل میں لڑکی کے ساتھ بدکاری کرنے کاوسوسہ ڈالا اوراس نازیباحرکت پر اُ کساتا رہا یہاں تک کہ راہب نے اس لڑکی کے ساتھ منہ کالا کر لیااورلڑکی حا ملہ ہوگئی۔ پھر شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ اس کے گھروالے آئیں گے اور تو بد نام ورُسوا ہو جائے گا،لہٰذا اسے قتل کردے، وہ پوچھیں تو کہہ دینا کہ مرگئی۔ چنانچہ راہب نے اسے قتل کرکے دفن کردیا۔اب شیطان لڑکی کےگھروا لوں کے پاس آیا اور ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ راہب نے لڑکی کو حاملہ کرنے بعدقتل کرکے دفن کردیاہے۔چنانچہ لڑکی کے گھروالوں نے راہب سے لڑکی کا پوچھا تو اس نے کہا:لڑکی مرگئی ہے۔لڑکی کے گھروالوں نے اسے قتل کرنے کے لئے پکڑا تو شیطان اس کے پاس آیااور کہنے لگا:میں نے ہی لڑکی کو دبوچا(یعنی بیمار کیا) تھا اور میں نے ہی اس کے گھروالوں کے دل میں یہ بات ڈالی ہے،اب اگرتو نے میری بات مان لی تو نجات پاجائےگا اور میں تجھے ان لوگوں سے چھٹکارا دلادوں گا۔ راہب نے پوچھا: کس طرح؟شیطان نے کہا: مجھے دو سجدے کر۔ راہب نے دو سجدے کردئیے۔ پھر شیطان نے کہا :اب میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
یہی وہ بات ہےجس کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نےارشاد فرمایا:
کَمَثَلِ الشَّیۡطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنۡسَانِ اکْفُرْۚ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکَ (پ۲۸،الحشر:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کرپھر جب اس نے کفرکرلیابولامیں تجھ سے الگ ہوں۔(1)
اب تم خود ہی غور کرو کہ شیطان نے کس طرح اپنے حیلوں کے ذریعےراہب سے کبیرہ گناہ کروائے اور یہ تمام گناہ(یعنی زنا،قتل اور غیرُاللہ کو سجدہ )شیطان کی بات مان کر لڑکی کا علاج کرنے کے سبب صادر ہو ئے حالانکہ علاج کے لئے رکھنا بظاہر ایک معمولی بات ہے۔ بعض اوقات انسان سمجھتا ہے کہ یہ تو نیکی اور بھلائی کا کام ہے اورشیطان خفیہ خواہش کے ذریعے اس کام کی اچھائی اس کے دل میں ڈال دیتا ہے، چنانچہ انسان نیکی کا شوق رکھنے والے شخص کی طرح اس کام کاآغاز کر دیتا ہے، پھر معاملہ اس کے اختیار سے نکل جاتا ہے اور بعض کام اسے دوسرے بعض کاموں کی طرف اس طریقے سے لے جاتے ہیں کہ وہ ان سے بچنے کی جگہ نہیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب مکائدالشيطان،۴/ ۵۴۶،حديث:۶۱