تقوٰی کے ذریعے صاف کیا گیا ہواور رو شن سو رج سے مرا دکتابُ اللہ اورسُنَّتِ رسول سے حاصل کیا ہواکثیرعلم ہے جس کے ذریعے شیطان کےخفیہ راستوں کی طرف رہنمائی ملتی ہے ورنہ اس کے راستےکثیراورپوشیدہ ہیں۔
شیطانی راستے بےشمار ہیں:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضورنبیّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں سمجھانے کے لئےایک لکیر کھینچی اور ارشادفرمایا:یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا راستہ ہے، پھر اس لکیر کے دائیں بائیں متعدد لکیریں کھینچیں اور ارشادفرمایا:یہ مختلف راستے ہیں،ان میں سے ہر ایک پر ایک شیطان ہے جو لوگوں کواس پر چلنے کی دعوت دیتا ہے۔ پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیۡ مُسْتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ (پ۸،الاانعام:۱۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اوریہ کہ یہ ہے میراسیدھاراستہ تواس پر چلواور اَورراہیں نہ چلو۔(1)
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان مختلف لکیروں کے ذریعے شیطان کے راستوں کی کثرت کو بیان فرمایا اور بے شک ہم اس کے راستوں میں سے ایک خفیہ راستے کی مثال ذکر کر چکے جس کے سبب وہ علمااور ان عبا دت گزاروں کو دھوکہ دیتا ہے جو اپنی خواہشات پر قابو پا کر خود کو ظاہری گناہوں سے بچالینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اب ہم اس واضح راستے کی مثال بیان کریں گے جو پوشیدہ تو نہیں ہےلیکن آدمی اس پر بےاختیار چل پڑتا ہے۔ چنانچہ
شیطان گناہ کی راہ ہموار کرتا چلاجاتا ہے:
مروی ہے کہ حضورنبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: بنی اسرائیل میں ایک راہب تھا، اس کے زمانے میں شیطان نےایک خوبصورت لڑکی کے پاس جاکر اسے دبوچا(جس کے سبب وہ بیمار ہوگئی) پھراس کے گھروالوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اس کا علاج راہب کے پاس ہے۔ چنانچہ وہ لڑکی کو اس کے پاس لائےتو راہب نے بغرض علاج اسے اپنے پاس رکھنے سے انکار کر دیا مگرلڑکی کےگھروالے اصرار کرتے رہے حتی کہ وہ مان گیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…النسن الکبری للنسائی،کتاب التفسير،سورة الانعام،۶/ ۳۴۳،حديث:۱۱۱۷۴