صورت حال جب ایسی ہے تو مومن کواس سےچھٹکارا نہیں مل سکتا،البتہ اسے دور کرنے اور اس کی قوت کمزورکرنے کا راستہ ہے۔چنانچہ
مومن اپنےشیطا ن کو کمزور کر دیتا ہے:
خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُنْضِیْ شَیْطَانَـہٗ کَمَا یُنْضِیْ اَحَدُکُمْ بَعِیْرَہٗ فِیْ سَفَرِہ یعنی مو من اپنےشیطا ن کواس طرح کمزور کر دیتا ہےجس طرح تم میں سے کوئی سفر میں اپنے اونٹ کوکمزورکردیتا ہے(اس پر بوجھ لادکر)۔(1)
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:مومن کا شیطان کمزور ہوتا ہے۔
حضرت سیِّدُنا قیس بن حَجّاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میرے شیطان نے مجھ سے کہا:”میں تم میں داخل ہوتے وقت فربہ اونٹنی کی مانند تھااور اب چڑیا کی طرح ہو گیا ہوں۔“ میں نے پوچھا:”ایسا کیوں؟“ اس نے کہا:”تم ذکرُاللہ کے ذریعے مجھےپگھلا تےرہتے ہو۔“
معلوم ہوا کہ اَہْلِ تقوٰی کے لئے شیطان کے دروازوں کو بند کرنا اور نگرانی کے ذریعے ان کی حفاطت کرنا مشکل نہیں۔ دروازوں سےمیری مرادوہ ظاہری دروازے اور راستے ہیں جو ظاہری گناہ کی طرف لے جاتے ہیں جبکہ اس کےخفیہ راستوں میں وہ بھی ٹھوکر کھاجاتے ہیں، وہ ان راستوں کو پاتے ہی نہیں ہیں کہ ان کی حفاظت کریں، جیسا کہ ہم نے علما و واعظین کے متعلق ذکر کیا کہ کس طرح شیطان انہیں دھوکے میں مبتلا کرتا ہے۔
انسان گویا اندھیری رات میں جنگل کا مسافر ہے:
مشکل یہ ہے کہ دل کی طرف کھلنے والے شیطان کے دروازے بہت زیادہ ہیں جبکہ فرشتوں کا دروازہ صرف ایک ہےاوریہ اکیلا دروازہ بھی ان کثیر د روازوں کے درمیان مشتبہ ہے، تو بندہ اس مسافر کی طرح ہے جو اندھیری رات میں کسی ایسے جنگل میں ہو جس میں دشوار گزارکئی راستے ہوں، صحیح راستے کاعلم صرف دو طرح سے ہو سکتا ہے:(۱)بصیرت والی آنکھ یا(۲)روشن سورج کے طلوع ہونے سے۔ یہاں بصیرت والی آنکھ سے مر ادوہ دل ہے جو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندللامام احمدبن حنبل،مسندابی ھريرة،۳/ ۳۲۱،حديث:۸۹۴۹