Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
94 - 1245
ہونا ہر بندے پر فرضِ عین ہےلیکن لوگ اس سے غافل ہیں  اور ایسے علوم کو حاصل کر نے میں مشغول ہیں جو وسوسوں کو لاتے ہیں اور ان پر شیطان  کو غالب کر دیتے ہیں، نیز اس کی دشمنی اور اس  سے بچنے کے طریقے بھی بھلا دیتے ہیں۔
وسوسوں کی کثرت سے نجات کی صورت:
	وسوسوں کی کثرت سے نجات کی صرف یہی صورت ہے کہ نفسانی اور شیطانی خواطر کے دروازں کو بند کردیا جائے۔ خوا طر کے ظا ہر ی  دروازے حواسِ خمسہ ہیں اور با طنی  دروازےشہوات اور دنیا کی طرف مائل کرنے والی اشیاء ہیں۔ تا ریک گھر میں تنہائی اختیار کرنا حواسِ خمسہ  کے دروازوں کو بند کرتا ہے اور اہل وعیال اورمال سےعلیحدگی باطن سے وسوسے کم کرتی ہے لیکن کچھ خیالات پھر بھی باقی رہتے ہیں اور یہ صرف اسی صورت میں دور ہوتے ہیں جب دل کو ذکرُاللہ میں مشغول رکھا جائے۔ شیطان پھر بھی قلب کی کھینچاتانی، اس سے جھگڑ نے  اور اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے غافل کر نے سے باز نہیں آتا ہے لہٰذا اس سے مجاہدہ کرنا ضروری ہے اور اس مجاہدہ کا اختتام صرف موت ہے کیونکہ جب تک آدمی زندہ ہے شیطان سے نجات نہیں پاسکتا۔
	ہاں!بعض اوقات آدمی قوی ہوتا ہے کہ شیطان کا کہا نہیں مانتا اور مجاہدے کے ذریعے اس کے شر کو اپنے سے دور کردیتا ہے لیکن پھر بھی اس کے خلاف جہاد اوراس کے شر کو دفع کرنے سے اس وقت تک بےنیاز نہیں ہوا جا سکتا جب تک انسان کے بدن میں خون کی گردش باقی ہے کیو نکہ جب تک انسان زندہ ہے اس وقت تک اس کے دل کی طرف شیطان کے دروازے کھلے رہیں گے اور وہ شہوت ، غضب،حسد، حرص اور دیگر برائیاں ہیں عنقریب ان کی وضاحت آئے گی۔جب دروازہ کھلا ہو اور دشمن بھی  غافل نہ ہو تو اس وقت دفاع صرف مجا ہدے اور نگرا نی کے ذریعے ہو سکتا ہے۔
کیا شیطان سوتا ہے؟
	حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے ایک شخص نے پوچھا: اے ابو سعید! کیا شیطان سوتا ہے؟ توآپ مسکرادیےاور فرمایا: اگر وہ سوتا ہو تا تو ضرورہم سکون میں ہوتے۔