Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
93 - 1245
بندےپر لازم ہے کہ اپنے ہر خیال پر غور کرے:
	بندےپر لازم ہے کہ اپنے دل میں آنے والے ہر خیال پر غور کرے تاکہ وہ جان سکے کہ یہ فرشتے کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے؟اور اس پر لازم ہے کہ بصیرت کی نگاہ سے اس میں گہری نظر کرے نہ کہ طبعی خواہش کے مطابق اور شیطانی مکر وفریب پر اطلاع صرف تقوٰی کے نور ،بصیرت اور وافر علم سے ہی ہوسکتی ہے، جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا (پ۹،الاعراف:۲۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جوڈروالے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیارہوجاتے ہیں۔
	یعنی وہ نورِ علم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ (پ۹،الاعراف:۲۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
	یعنی ان کی مشکل دور ہوجاتی ہے۔
گناہ گار کو شیطانی مکر کی خبر تک نہیں ہوتی:
	جو شخص اپنے لئے تقوٰی کو پسند نہیں کرتا اس کی طبیعت خواہشات کی پیروی کے سبب شیطانی مکرو فریب قبول کرنے کی طرف مائل ہوجاتی ہے تو اس وقت ایسے شخص کی غلطیاں بڑھ جا تی ہیں اور وہ تیزی سے ہلاکت کی طرف بڑھتا چلاجاتا ہے اور اسے شعور بھی نہیں ہوتا۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾ (پ۲۴،الزمر:۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اورانہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی۔
اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ اس سے مرادوہ اعمال ہیں جن کو وہ نیکیاں سمجھتے تھے  جب دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ توگناہ ہیں۔
نفس کے دھوکے اور شیطانی مکر کا جاننافرض عین ہے:
	علومِ معاملہ میں سب سے مشکل علم نفس کے دھوکوں اور شیطان کے مکروفریب  کو جا نناہے۔ اس کا علم